Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

روزمرہ کے واقعات کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر معرفت کی دریافت کرتا رہے۔ مثال کے طور پر آپ قرآن کی سورہ النساء پڑھ رہے ہیں۔ آپ اس آیت تک پہنچتے ہیں: وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئاً أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَاناً وَإِثْماً مُّبِيناً (4:20) ۔ یعنی اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس کو بہت سامال دے چکے ہو، تو تم اُس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرتے ہوئے آپ کی سمجھ میں آتا ہے کہ دئے ہوئے مال کو واپس نہ لینا، یہ ایک شرافت کا معاملہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی شرافت کا حکم دیا ہے اور غیر شریفانہ طرز عمل سے منع کیا ہے پھر آپ سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس شرافت کا حکم دیا ہے، وہ شرافت خود اللہ تعالیٰ میں بے حساب گنا زیادہ ہوگی ۔ یہ سوچتے ہوئے آپ تڑپ اُٹھتے ہیں اور آنسوؤں کی زبان میں یہ کہتے ہیں کہ خدایا، تو نے دنیا میں مجھ کو ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائیں ۔ اب کیا آخرت میں تو ان نعمتوں کو مجھ سے چھین لے گا۔ موت سے پہلے کی زندگی میں تو نے مجھ کو جنت میں رکھا۔ یہ تیری اعلیٰ شرافت کے خلاف ہے کہ تو موت کے بعد کی زندگی میں مجھ کو جہنم میں ڈال دے۔ اِسی کا نام پوائنٹ آف ریفرنس ہے، یعنی واقعات اور تجربات کے حوالے سے اللہ کو یاد کرنا، واقعات اور تجربات کو تخلیقی معرفت کا ذریعہ بنا لینا ۔ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جو اس انداز میں اپنے ذہن کی تربیت کرے، دوسرا کوئی طریقہ معرفت کے حصول کا نہیں ۔ بے یقینی نہیں ہدایت کے معاملے میں خدا کا ایک قانون وہ ہے، جس کو قرآن میں قانونِ التباس کہا گیا ہے (الانعام، 6:9)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں شبہ کا ایک عنصر (element of doubt) موجود ہوتا ہے۔ یہ قانون مصلحتِ امتحان کی بنا پر ہے۔ جو شخص شبہ کے اِس پردے کو پھاڑ سکے، وہ سچائی کو پائے گا۔ اور جو شخص شبہ کے اِس پردے کو پھاڑنے میں ناکام رہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page