Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 554

By Maulana Wahiduddin Khan

طربیہ یا المیہ پنڈت جواہر لعل نہرو ( وفات 1964) ایک دولت مند باپ کے بیٹے تھے۔ چناں چہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ نہرو اپنے منہ میں چاندی کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے تھے: Nehru was born with a silver spoon in his mouth. جواہر لعل نہرو کو اپنی زندگی میں بہت زیادہ شہرت اور کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن 1962 کے حادثے کے بعد وہ سخت مایوسی کا شکار ہوئے اور اسی حال میں صرف 75 سال کی عمر میں وہ اچانک مر گئے۔ وہ اس دنیا سے اس طرح چلے گئے کہ ان کے اپنے مادی وجود کے سوا تمام دوسری چیزیں ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھیں۔ یہی کم وبیش ہر پیدا ہونے والے انسان کا حال ہے۔ ہر ایک گویا کہ ”چاندی کے چمچہ“ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور پھر جلد ہی ایک عاجز اور مجبور انسان کی حیثیت سے وہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے: Everyone is born with a silver spoon in his mouth. But انسانی زندگی کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے جس کے بارہ میں ہر عورت اور مرد کو سوچنا چاہیے۔ ہر آدمی کا کیس عملاً صرف ایک ہے— کامیاب زندگی، نا کام موت، امیدوں کے ساتھ آغاز، مایوسی کے ساتھ خاتمہ۔ ہر عورت اور مرد کی کہانی ایک ایسی کہانی ہے جو اپنے آغاز میں طربیہ (comedy) ہے، اور اپنے انجام میں صرف المیہ (tragedy)۔ اس دنیا میں کامیاب انسان وہ ہے جو اس حقیقت کو جانے اور اس حقیقت کے گہرے شعور کے ساتھ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ یہی موجودہ دنیا میں کسی عورت یا کسی مرد کی کامیابی کا راز ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر کسی انسان کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page