Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 553

By Maulana Wahiduddin Khan

خوش گوار آغاز ، درد ناک انجام ایک مسلمان نے محنت سے تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے ایک مشہور کالج سے قانون کی ڈگری لی۔ اس کے بعد انھوں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کا کورس امتیازی نمبر کے ساتھ پاس کیا۔ جلد ہی بعد اُن کو ایک پیٹرول الروا لے ملک میں چیف اکاؤنٹنٹ کا عہدہ مل گیا۔ وہاں انھوں نے کافی پیسہ کمایا۔ اس کے بعد وہ اپنے ملک میں واپس آگئے ۔ یہاں کے ایک بڑے شہر میں انھوں نے بلڈر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ انھوں نے کافی دولت کمائی اور کئی پراپرٹی بنائی۔ وہ قرآن کے الفاظ میں اسی تکائر میں ہمہ تن مشغول تھے کہ صرف 65 سال کی عمر میں اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔ اچانک وہ خالی ہاتھ اس دنیا سے چلے گئے۔ اس واقعے کو سن کر میں نے سوچا کہ موجودہ زمانے میں کم و بیش ہر آدمی کا یہی کیس ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی ہارڈ لائف جیتا ہے اور پیسہ کماتا ہے ، صرف اس لیے کہ وہ اپنے نااہل بچوں کو ایزی منی (easy money) دے کر اس دنیا سے چلا جائے۔ یہ گویا ایک خوش گوار آغاز کا ایک درد ناک انجام ہے۔ ہر آدمی کم و بیش اس کی ایک مثال ہے۔ جاہل اور عالم، مذہبی اور غیر مذہبی، تقریبا سب کا کیس یہی ہے۔ ہر آدمی بظاہر اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے ، لیکن موت ہر آدمی کے لیے یہ سبق لے کر آتی ہے کہ تم صرف ایک محروم انسان ہو۔ اس صورت حال نے ہر آدمی کے کیس کو کامیابی سے محرومی کی طرف سفر کا کیس بنا دیا ہے۔ یہ اندوہ ناک صورت حال اس لیے جاری ہے کہ مرنے والا دوبارہ لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آتا، تا کہ وہ لوگوں کو زندگی اور موت کی حقیقت سے باخبر کرائے۔ مرنے کے بعد انسان حقیقت سے باخبر ہو جاتا ہے، مگر یہ باخبر انسان دوبارہ دنیا کی طرف نہیں لوٹتا— زندہ انسان حقیقت سے بے خبر ہے، اور یہ بے خبر انسان مرنے والوں سے پوچھ کر حقیقت کو دریافت نہیں کر سکتا۔ انسانی تاریخ اس دو طرفہ محرومی کا دوسرا نام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page