Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 588

By Maulana Wahiduddin Khan

وقتِ مقرر ہے ہندوستان میں ایک مشہور مقولہ ہے ۔ قبضہ سچا، دعویٰ جھوٹا۔ مگر امریکا کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ امریکا کا اصول یہ ہے کہ دعویٰ سچا، قبضہ جھوٹا۔ ہندوستان میں ہر جگہ یہ مثال دیکھی جاسکتی ہے کہ ایک گھر یا زمین اگر ایک بار کسی کے قبضے میں آجائے تو اس کو عدالتی کارروائی کے ذریعے وہاں سے نکالنا عملی طور پر سخت دشوار ہو جاتا ہے۔ مگر امریکا میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایک بار میں امریکا گیا۔ وہاں میں لاس اینجلس (Los Angeles) میں ایک صاحب کے ساتھ ان کے گھر پر ٹھہرا ہوا تھا۔ وہاں اُن کا ایک اور گھر تھا جس کو انھوں نے وقتی طور پر ایک شخص کو کرایہ پر دے دیا تھا۔ جب مدت پوری ہوئی تو انھوں نے اُس آدمی سے گھر چھوڑنے کے لیے کہا، مگر وہ آدمی گھر چھوڑنے پر راضی نہ ہوا۔ اس کے بعد مالک مکان نے یہ کیا کہ ضروری کاغذات کے ساتھ ایک درخواست پولس آفیس میں بھیج دی۔ اس کے بعد پولس اُس گھر میں پہنچی، اور اس نے کرایے دار کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر گھر خالی کرے، ورنہ اس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد مذکورہ کرایے دار خاموشی کے ساتھ اُس گھر کو چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ واقعہ دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ ایک اور معاملے میں ہر شخص کا کیس یہی ہے۔ ہر شخص موجودہ زمین پر ایک محدود مدت (limited period) کے لیے آباد کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ہر شخص کو لازماً اس زمین کو چھوڑ دینا ہے۔ مقررہ مدت پوری ہوتے ہی خدا کے فرشتے آئیں گے اور جبری طور پر (compulsively) وہ انسان کو اس زمین سے بے دخل (evict) کر دیں گے۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ اس زمین پر اپنے قبضے کو مسلسل باقی رکھے تو ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ موجودہ زمین پر انسان کا قیام خالق کی مرضی کے تحت صرف محدود مدت تک کے لیے ہے۔ جب یہ مدت پوری ہوگی تو اس کے بعد وہی معاملہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (7:34)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page