آخرت کا سفر
Urdu book, p. 589
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کے کنارے ایک معروف مسلم شخصیت کا مضمون نظر سے گزرا۔ وہ اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ انھوں نے اس مضمون میں اپنا حال بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ میں بھی اپنی کمزوری اور انحطاط صحت کو دیکھتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ غالب نے شاید کچھ ایسے ہی حالات میں دو شعر کہے ہوں گے : رہیے اب ایسی جگہ چل کر، جہاں کوئی نہ ہو ہم سخن کوئی نہ ہو، ہم زباں کوئی نہ ہو پڑیے گر بیمار، تو کوئی نہ ہو تیماردار اور اگر مر جایئے، تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو بڑھاپے کی عمر در حقیقت موت کو یاد دلانے والی (reminder) ہوتی ہے۔ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر کسی عورت یا مرد کو سب سے زیادہ جو بات یاد کرنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ اب میری موت بہت قریب آچکی ہے۔ یہ یاد اس کو خدا اور آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ کردے گی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ انسان موت کے عین قریب پہنچ کر بھی موت کو یاد نہیں کرتا، بلکہ وہ دوسری دوسری باتوں میں الجھا رہتا ہے۔ مذکورہ اقتباس اسی قسم کی ایک مثال ہے۔ مضمون نگار نے اپنے بڑھاپے کا ذکر کرتے ہوئے غالب کا ایک شعر نقل کر دیا، حالاں کہ انھیں یہ لکھنا چاہیے تھا کہ اب میں موت کے کنارے پہنچ چکا ہوں۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ میں خدا کے سامنے اس طرح حاضر کر دیا جاؤں کہ میرے پاس بے بسی (helplessness) کے سوا کوئی اور سرمایہ موجود نہ ہو۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ خسارے کی بات ہے۔ موت ہر انسان کے لیے آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔ موت کے بعد ہر انسان پر وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ وہ اپنے خالق کے سامنے حساب کتاب کے لیے پیش کر دیا جائے۔ ہر انسان کو سب سے زیادہ اسی آنے والے وقت کے بارے میں غور کرنا چاہیے، مگر عجیب بات ہے کہ انسان اسی اہم ترین بات کو سب سے زیادہ بھولا ہوا رہتا ہے۔ وہ اس کے بارے میں صرف اُس وقت سوچتا ہے جب کہ سوچنے کا وقت نکل چکا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader