Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 596

By Maulana Wahiduddin Khan

موت ایک مستقل ریمائنڈر موت کیا ہے، موت عجز اور قدرت کے درمیان ملاقات کا دن ہے۔ موت وہ لمحہ ہے جب کہ عاجز مطلق کا سامنا قادر مطلق سے پیش آتا ہے۔ موت سے پہلے جو انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھتا تھا، موت کے بعد اچانک وہ دیکھے گا کہ اس کی آزادی خود اپنی نہ تھی، بلکہ وہ ایک اور ہستی کی دی ہوئی آزادی تھی۔ موت اچانک آدمی کو یہ بتائے گی کہ موت سے پہلے کی زندگی عمل کرنے کی زندگی تھی اور موت کے بعد کی زندگی اپنے عمل کا انجام پانے کی زندگی۔ موت ایک ایسا گیٹ ہے جس کے اندر آدمی داخل ہونے کے لئے مجبور ہے۔ اور داخل ہونے کے بعد اس کو خالق کائنات کا آخری فیصلہ (final judgement) سناتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لئے کوئی اور عدالت موجود نہیں۔ موت کا مطلب ہے— ایک دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں چلے جانا۔ پہلی دنیا میں سب کچھ اسباب امتحان کے طور پر ملا ہوا تھا، دوسری دنیا میں جو کچھ ملے گا، وہ صرف نتیجہ امتحان کے طور پر ملے گا۔ پہلی دنیا میں ہر چیز بلا استحقاق ملی ہوئی تھی، دوسری دنیا میں کوئی چیز صرف اُس وقت ملے گی جب کہ آدمی نے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کیا ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو (أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي الْمَوْتَ)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کو اپنے لیے ایک مستقل ریمائنڈر (permanent (reminder بنا لو۔ اگر کسی آدمی کو ایسی جسمانی چوٹ لگ جائے جس کا درد (pain) وہ ہر وقت محسوس کرتا ہے تو یہ درد اُس چوٹ کے لیے گویا ایک مستقل ریمائنڈر بن جائے گا۔ اسی طرح جو شخص موت کے معاملے کو حقیقی طور پر جان لے تو وہ ہر وقت اُس کو یاد کرنے لگے گا۔ موت کی یاد اُس کو آخرت کی یاد دلائے گی۔ اور آخرت کی یاد اُس کو وہ تمام چیزیں یاد دلاتی رہے گی جن کا تعلق موت کے بعد والی زندگی سے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page