آخرت کا سفر
Urdu book, p. 595
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کا واقعہ موت بلا شبہ سب سے زیادہ معلوم واقعہ ہے۔ مگر موت کا واقعہ عملاً سب سے زیادہ غیر معلوم واقعہ بنا ہوا ہے۔ آپ کسی بھی شخص سے ملئے، وہ موت کا سنجیدہ ذکر کرتے ہوئے نہیں ملے گا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت لوگوں کے لیے صرف ایک خارجی خبر ہے، وہ لوگوں کا ذاتی تجربہ (personal experience) نہیں۔ مرنے والے روزانہ مررہے ہیں۔ ان مرنے والوں کے لیے موت یقیناً ایک ذاتی تجربہ ہوتا ہے، لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ موت کا ذاتی تجربہ پیش آتے ہی آدمی اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے تجربے کو بتانے کے لیے دوبارہ اس دنیا میں واپس نہیں آتا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر خبر کو صرف دور کی ایک چیز سمجھتا ہے۔ وہ کسی خبر کو ذاتی تجربہ کے طور پر نہیں لیتا۔ مثال کے طور پر سگریٹ نوشی (smoking) کے نقصان کی خبر آدمی کو سگریٹ سے روکنے والی نہیں بنتی۔ وہ سگریٹ نوشی چھوڑنے کا ارادہ صرف اُس وقت کرتا ہے جب کہ اس کو سگریٹ نوشی کے نقصان کا ذاتی تجربہ ہو جائے۔ یہ ایک مہلک کمزوری ہے۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ اپنے کو اس مہلک کمزوری کا شکار ہونے سے بچائیں۔ عقل مند وہ ہے جو اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ دوسرے کی موت اس کو اپنی موت نظر آنے لگے۔ موت کی خبر اس کو اسی طرح ہلانے والی ثابت ہو جس طرح موت کا ذاتی تجربہ آدمی کو آخری حد تک ہلا دیتا ہے۔ جس آدمی کو موت کا حقیقی شعور ہو جائے، وہ زندگی سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے گا۔ وہ زندگی سے زیادہ موت کے معاملے میں سنجیدہ ہو جائے گا۔ زندگی سے متعلق کوئی غلطی صرف وقتی نقصان پہنچاتی ہے، لیکن موت کے بارے میں غلطی کرنا، آدمی کے لیے ابدی نقصان کا سبب بن جائے گا۔ جو شخص اس حقیقت کو جان لے، وہ موت کے بارے میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader