آخرت کا سفر
Urdu book, p. 598
By Maulana Wahiduddin Khan
آنے والا وقت ہر آدمی پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ خود تو نہ ہوگا، مگر یہ دنیا اس کے ساتھ نہ ہوگی۔ جب کہ وہ نہ ہوگا، مگر اس کے گھر والے، اس کے جاننے والے اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ جب کہ وہ نہ ہوگا، مگر وہ سب کچھ اس کے پاس نہ ہوگا جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا تھا۔ یہ آنے والا لمحہ موت کا لمحہ ہے۔ موت آدمی کو اُس دنیا سے نکال دے گی جہاں وہ سب کچھ پائے ہوئے تھا، اور اُس دنیا میں پہنچادے گی جہاں اُس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ اِس دن امیر آدمی ایک مفلس آدمی نظر آئے گا۔ اِس دن طاقت والا آدمی بے طاقت ہو چکا ہوگا۔ اس دن موجودہ دنیا میں اس کے تمام ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ موت کا فرشتہ کبھی اپائنٹمنٹ (appointment) لے کر نہیں آتا، وہ بتائے بغیر اچانک آدمی کے پاس آجاتا ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے جو ہر دن کو اپنا آخری دن سمجھے۔ یہ آنے والا وقت تیزی سے ہر آدمی کی طرف چلا آرہا ہے۔ کسی آدمی کے اوپر وہ آج شام کو آجائے گا اور کسی آدمی کے اوپر کل صبح کو، کسی کے اوپر اس کے بعد اور کسی کے اوپر اس کے بعد۔ یہ زندگی کے خاتمہ کا وقت نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک نئے دور حیات میں داخلے کا وقت ہوگا۔ یہ بلاشبہ ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ اسی کے بارے میں سوچنا چاہیے، ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ اسی کی فکر کرنا چاہیے۔ آنے والے دور حیات (life span) میں جو انسان کامیاب ہوا، وہی کامیاب ہے۔ اور جو انسان وہاں نا کام ہوا، وہی نا کام۔ کامیابی اور نا کامی کا حقیقی مدار موت کے بعد والے دور حیات پر ہے، نہ کہ موت کے پہلے والے دور حیات پر۔ موت کا تصور کوئی منفی تصور نہیں، وہ انتہائی حد تک ایک مثبت تصور ہے۔ موت کا تصور آدمی کو یہ محرک (incentive) دیتا ہے کہ وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اپنی آخرت کی تیاری کرے۔ وہ آخرت کے معاملے کو اپنا واحد کنسِرن بنالے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader