آخرت کا سفر
Urdu book, p. 599
By Maulana Wahiduddin Khan
موت سے غفلت کیوں میں نے ایک نوجوان طالب علم کو دیکھا۔ اس کے امتحان کا زمانہ قریب آ گیا تھا، مگر اس کی تیاری نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ماں باپ روزانہ اس کو امتحان کی یادلاتے رہتے تھے۔ وہ سخت انداز میں اس سے کہتے تھے کہ اگر تم امتحان میں فیل ہو گئے تو تمھارا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ تم کسی کام کے نہیں رہو گے۔ ماں باپ کی اس یاد دہانی کا اُس طالب علم پر اتنا اثر ہوا کہ وہ اپنے کمرہ میں بند ہو گیا اور ہر وقت بس امتحان کی تیاری کرنے لگا۔ اس واقعہ سے میں نے سمجھا کہ لوگ موت سے غافل کیوں رہتے ہیں۔ موت سے غفلت کا سبب در اصل آخرت سے غفلت ہے۔ ہر عورت اور مرد رات دن صرف اپنی دنیا کے تقاضوں میں مشغول رہتے ہیں، وہ ہر وقت بس دنیا کے نفع و نقصان پر سوچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موت کا تصور ان کی زندہ یادداشت میں موجود نہیں رہتا۔ اگر ایسا ہو کہ ان کا ذہن روزانہ موت کے بعد آنے والے حالات پر سوچے، موت کے بعد خدا کی عدالت میں حاضری کو وہ ایک سنگین مسئلہ کے طور پر اپنے ذہن میں تازہ کرتے رہیں تو وہ کبھی موت سے غافل نہ ہوں۔ وہ موت کے بارے میں اس سے زیادہ سنجیدہ ہو جائیں جتنا کہ مذکورہ طالب علم اپنے امتحان کے بارے میں سنجیدہ ہو گیا تھا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی کے بارے میں خوب سوچتے ہیں لیکن وہ موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت دنیا کی چیزوں کا تذکرہ کرتے ہیں، لیکن وہ آخرت کے معاملے کا کبھی تذکرہ نہیں کرتے۔ یہی وہ مزاج ہے جس نے لوگوں کو موت کے معاملے میں غیر سنجیدہ بنا رکھا ہے۔ کوئی بھی واقعہ ان کو موت کی یاد لانے والا نہیں بنتا۔ وہ دوسرے کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ اپنی موت کو یاد نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت سے فراموشی خود اپنے مستقبل سے فراموشی ہے۔ موت ایک زلزلہ ہے، آدمی کے لیے جو کچھ کرنے کا موقع ہے، وہ صرف زلزلے سے پہلے ہے، زلزلے کے بعد کسی کے لیے کچھ کرنے کا موقع نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader