دیباچہ
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
دیباچہ زیر نظر کتاب کا مشترک موضوع معرفت (realization of God) ہے۔ اس کتاب میں معرفتِ خداوندی سے متعلق مختلف ابواب شامل کئے گئے ہیں۔ معرفت، دین کا خلاصہ ہے۔ معرفت، دین کا آغاز ہے اور معرفت، دین کا اختتام ہے۔ دین خداوندی میں معرفت کی حیثیت بیج (seed) کی ہے۔ جس طرح ایک بیج سے پورا درخت بنتا ہے، اسی طرح معرفت سے انسان کی پوری زندگی تشکیل پاتی ہے۔ معرفت کے بغیر دین صرف ایک بے روح فارم (spiritless form) بن جاتا ہے۔ معرفت کے ساتھ دین گویا کہ ہرا بھرا درخت ہے اور معرفت کے بغیر دین صرف ایک سوکھا درخت ۔ دین اگر جسم ہے تو معرفت اس کی روح (spirit) ہے۔ معرفت سے مراد معرفتِ حق ہے۔ حق کی معرفت ایک شعوری دریافت ہے، حق کی معرفت کسی قسم کی پر اسرار کیفیت کا نام نہیں۔ معرفت کسی انسان کو اندھیرے میں نہیں ملتی، بلکہ معرفت کسی انسان کو اجالے میں ملتی ہے۔ معرفت کے حصول کا ذریعہ مراقبہ (meditation) نہیں، معرفت کے حصول کا صرف ایک ذریعہ ہے، اور وہ غور و فکر (contemplation) ہے۔ معرفت کوئی وجد (ecstasy) کی نوعیت کی چیز نہیں، معرفت تمام تر ایک شعوری واقعہ ہے، نہ کہ کوئی مجحول واقعہ۔ معرفت کا آغاز روح تجسس (seeking spirit) سے ہوتا ہے۔ تلاش ایک ذہنی سفر ہے۔ اگر آدمی کے اندر سنجیدگی (sincerity) ہو، اگر وہ اپنی تلاش کے معاملے میں حقیقی طور پر دیانت دار (honest) ہو، اگر اس کے اندر منفی سوچ (negative thinking) نہ پائی جاتی ہو، اگر وہ تعصبات (prejudices) سے پوری طرح خالی ہو، اگر وہ پورے معنوں میں نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک روح (complex-free soul) بن چکا ہو تو اس کے لیے معرفت کا حصول اتنا ہی زیادہ یقینی بن جاتا ہے جتنا کہ سورج نکلنے کے بعد روشنی کا ظہور میں آنا۔ لیکن اسی کے ساتھ حصولِ معرفت کی ایک اور لازمی شرط ہے، اور وہ دعا ہے۔ معرفت ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader