آخرت کا سفر
Urdu book, p. 604
By Maulana Wahiduddin Khan
موت: بریک ان ہسٹری گورنمنٹ محکموں میں ایک قانون ہے جس کو بریک ان سروس (break in service) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص گورنمنٹ سروس میں ہے۔ اس کی سروس پر دس سال ہو چکے ہیں۔ اب اگر وہ باقاعدہ چھٹی لئے بغیر دفتر نہ جائے تو اس کو بریک ان سروس کہا جاتا ہے۔ اب اس کی سروس کا شمار دس سال پیچھے سے کیا جائے گا اور وہ دس سالہ حقوق ملازمت سے محروم ہو جائے گا۔ اسی قسم کا ایک اور زیادہ بڑا معاملہ آدمی کے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ اس کو بریک ان ہسٹری (break in history) کہا جا سکتا ہے۔ یہ موت کا معاملہ ہے۔ ایک شخص پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے۔ وہ عمر بھر جد و جہد کی زندگی گزارتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی ایک دنیا کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ اپنی ایک تاریخ بناتا ہے جو اس کی پہچان ہوتی ہے۔ اس تاریخ کے بل پر وہ موجودہ دنیا میں اپنے لیے ایک درجہ حاصل کرتا ہے۔ یہ تاریخ ہر انسان کا سب سے بڑا سرمایہ (asset) ہے۔ اسی تاریخ کے زور پر وہ موجودہ دنیا میں اپنے حقوق حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد سو سال سے بھی کم مدت میں اچانک اس کی موت آتی ہے۔ موت اس کو اس کی تاریخ سے پوری طرح جدا کر دیتی ہے۔ اب وہ اپنی تاریخ کو مکمل طور پر اپنے پیچھے چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں اس کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔ جہاں وہ اکیلا ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی سابقہ تاریخ سے پوری طرح محروم۔ یہی وہ آنے والا سنگین تجربہ ہے جس کی فکر ہر ایک کو کرنا چاہیے۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اس آنے والے دن کے بارے میں سوچے ۔ وہ موت کے بعد آنے والے حالات کو سوچ کر موت سے پہلے کے دنوں میں اس کی تیاری کرے ۔ بریک ان سروس کی تلافی ہو سکتی ہے، لیکن مذکورہ قسم کے بریک ان ہسٹری کی کوئی تلافی ممکن نہیں، سو اُس شخص کے جو اپنے آپ کو اس کا مستحق بنائے کہ اس کا خالق دوبارہ اس کو اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader