آخرت کا سفر
Urdu book, p. 603
By Maulana Wahiduddin Khan
اچانک موت ، اچانک قیامت دو چیزیں ہر انسان پر اچانک آنے والی ہیں ۔ اچانک موت ، اور اچانک قیامت ۔ یہ بات ہر عورت اور ہر مرد کا سب سے زیادہ بھیانک مسئلہ ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جس کے لیے ہر انسان کو سب سے زیادہ سوچنا چاہیے اور جس کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے۔ دنیا کا یہ رواج ہے کہ جب کوئی شخص باہر سے کسی کے یہاں آتا ہے تو وہ پہلے اُس شخص سے اپائنٹمنٹ(appointment)لیتا ہے ، یا دروازے پر آ کر دستک (knock) دیتا ہے اور پھر باہر سے پوچھتا ہے ۔ کیا میں اندر آ سکتا ہوں۔ لیکن موت کو اور قیامت کو اس کی ضرورت نہیں۔ موت کا فرشتہ ایک ایسا آنے والا فرشتہ ہے جو کسی بھی شخص کے پاس کسی بھی وقت اچانک آ جاتا ہے ۔ وہ انسان سے پوچھے بغیر اس کے پاس آتا ہے اور اس سے پوچھے بغیر اس کی روح قبض کر کے اُس کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی کبھی ممکن نہ ہوگی۔ موت کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے ۔ سب کچھ چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں چلا جانا جہاں آدمی کے پاس کچھ بھی نہیں۔ اپنے لوگوں کے درمیان رہنے والا انسان اچانک ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنے لوگوں میں سے کوئی بھی شخص اس کے پاس موجود نہیں۔ موت گو یا کہ انفرادی (individual) قیامت ہے۔ آخر میں وہ بڑی قیامت آئے گی جو موجودہ دنیا کے تمام حالات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گی ۔ موجودہ دنیا اچانک ساری کی ساری کھنڈر بن جائے گی ۔ اچانک ہر عورت اور مرد اپنے آپ کو اس حال میں پائیں گے کہ نہ ان کے پیچھے کچھ ہے اور نہ ان کے آگے کچھ ہے ۔ ہر انسان کا اپنا وجود تو پوری طرح باقی رہے گا ، لیکن اپنے وجود کے سوا جو کچھ اس کے پاس تھا ، وہ سب کچھ اُس سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکا ہوگا ۔ ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ اسی حقیقت کے بارے میں سوچنا چاہیے، ہر عورت اور مرد کو سب سے زیادہ اسی آنے والے دن کی تیاری کرنا چاہیے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader