Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 606

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کی طرف سفر ہر آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے بعد ہی اس کا ایک سفر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سفر مختلف مرحلوں سے گزرتا ہوا آخر کار جہاں پہنچتا ہے، وہ موت کا دروازہ ہے۔ موت کے دروازے کے دوسری طرف اس کے لیے کیا ہے، یہ کسی بھی شخص کو پیشگی طور پر معلوم نہیں۔ یہ ایک ایسا معلوم انجام ہے، جو صرف موت کے دروازے کے اندر داخل ہونے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔ ہر شخص جو زندہ ہے اور زمین پر چل پھر رہا ہے، وہ آخر کار ایک دن موت کے دروازے کے اندر داخل ہونے والا ہے، مگر یہ داخلہ ہر ایک کے لیے اندھیرے میں چھلانگ کے ہم معنیٰ ہے۔ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ موت کے بعد اس کے ساتھ کیا پیش آئے گا۔ جو لوگ آخرت کے معاملے کو نہیں مانتے، وہ بھی اس سے بے خبر ہیں اور جو لوگ آخرت کے معاملے پر عقیدہ رکھتے ہیں، وہ بھی اس سے تقریباً بے خبر ہیں۔ پہلا گروہ اگر نظری طور پر بے خبر ہے تو دوسرا گروہ وہ غلط مفروضات کی بنا پر بے خبر۔ مگر کسی عورت یا مرد کا سب سے زیادہ نازک معاملہ یہی ہے۔ کیوں کہ موت سے پہلے کی زندگی کا عرصہ حیات (life span) بہت مختصر ہے اور موت کے بعد کی زندگی کا عرصہ حیات لامناہی طور پر طویل ہے۔ اس لیے ہر شخص جو اپنا خیر خواہ ہے، اس کو سب سے زیادہ اس مسئلے پر سوچنا چاہیے ۔ یہی اس کے سوچنے کا سب سے بڑا موضوع ہونا چاہیے۔ موت کے دروازے کے اندر داخلے کا سب سے زیادہ بھیانک پہلو یہ ہے کہ داخلے کے بعد اُس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ یہ تمام تریک طرفہ سفر کا معاملہ ہے، نہ کہ دوطرفہ سفر کا معاملہ ۔ موت کا یہ پہلو موت کے معاملے کو بے حد سنگین بنا دیتا ہے۔ موت کی اس سنگینی کا تقاضا ہے کہ آدمی زندگی سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے ۔ وہ زندگی کے معاملے سے زیادہ موت کے معاملے پر سنجیدہ (sincere) ہو جائے، خواہ اس مقصد کے لیے اُس کو مرنے سے پہلے مرجانا پڑے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page