آخرت کا سفر
Urdu book, p. 607
By Maulana Wahiduddin Khan
کیسا عجیب پانا، کیسا عجیب کھونا بیسویں صدی کے ربع اول میں انڈیا میں انگریزوں کی حکومت اپنے عروج پر تھی۔ اس زمانے میں انھوں نے دہلی کے اندر ایک نئی دہلی بنائی۔ اس میں وائس ریگل لاج، پارلیمنٹ ہاؤس، انڈیا گیٹ، بڑی بڑی سرکاری عمارتیں، سڑکوں اور پارکوں کا ایک نیا جال بچھایا گیا۔ نئی دہلی کی یہ دنیا اپنے زمانے کے لحاظ سے اتنی ممتاز تھی کہ اس کو سیاسی تاج محل سمجھا جاتا تھا۔ جب یہ سیاسی تاج محل تیار ہوا تو اس زمانے میں فرانس کا ایک لیڈر ہندوستان آیا تھا۔ وہ بہت پڑھا لکھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دنیا میں جمہوری انقلاب آچکا ہے۔ اور دوسری بادشاہتوں کی طرح برٹش بادشاہت بھی یقینی طور پر ایک دن ختم ہونے والی ہے۔ چناں چہ اس نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا— انھوں نے کیسی شان دار دنیا بنائی ہے صرف اس لئے کہ وہ اس کو چھوڑ کر چلے جائیں: What a magnificent world they built to leave! یہی اس دنیا میں ہر انسان کی کہانی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کوئی چھوٹا محل بناتا ہے اور کوئی بڑا محل۔ برٹش حکومت کے بنائے ہوئے شان دار سیاسی تاج محل کا انجام آخر کار یہ ہوا کہ برٹش حکمران 15 اگست 1947 کو اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ یہی انجام ہر عورت اور ہر مرد کے لیے مقدر ہے۔ ہر ایک کے لیے لازمًا وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ اپنے بنائے ہوئے محل کو چھوڑ کر تنہا اس دنیا سے چلا جائے۔ یہ واقعہ ہر روز ہمارے سامنے گزرتا ہے، مگر کوئی شخص اس سے نصیحت نہیں لیتا۔ ہر شخص اس طرح جی رہا ہے جیسے کہ جو کچھ ہوا، وہ دوسرے کے ساتھ ہوا، میرے ساتھ ایسا ہونے والا نہیں۔ کوئی شخص منہ سے بولے یا نہ بولے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس معاملے میں ہر عورت اور مرد اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھے ہوئے ہے۔ حالاں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader