آخرت کا سفر
Urdu book, p. 608
By Maulana Wahiduddin Khan
موت ہرایک کے لیے میرے لیے زندگی اب صرف موت کا انتظار بن کر رہ گئی ہے ۔ ایک بوڑھے آدمی نے کہا۔ میں نے جواب دیا کہ زندگی ہر ایک کے لیے موت کا انتظار ہے۔ اگرچہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے ۔ اس معاملے میں ایک بوڑھے کمزور آدمی اور ایک جوان تندرست آدمی میں صرف یہ فرق ہے کہ بوڑھا آدمی جس حقیقت کو مجبورانہ طور پر مانتا ہے، اس کو ایک تندرست آدمی صرف اُس وقت جانے گا جب کہ وہ اُس پر غور کرے ۔ بوڑھے آدمی کے لیے موت ایک مجبورانہ دریافت ہے اور جوان آدمی کے لیے موت ایک شعوری دریافت ۔ ایک امریکی تاجر نے ساری زندگی تجارت کی ۔ اس نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں ۔ آخر کار وہ 90 سال سے زیادہ عمر تک پہنچ گیا ۔ اب اس کو محسوس ہوا کہ اس کا جسم اور اس کا دماغ دونوں کام کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ اب اس کے لیے اگلا مرحلہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک دن مر جائے ۔ اپنے اس احساس کو اس نے ایک شخص سے ان الفاظ میں بیان کیا ۔ میں اب نامعلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں: I am going to take a fateful leap into the unknown. یہی انجام ہر پیدا ہونے والے کے لیے مقدر ہے، خواہ وہ بظاہر کمزور ہو یا تندرست، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سفید فام ہو یا سیاہ فام، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، خواہ وہ بے زور ہو یا طاقت ور، ہر ایک کے لیے وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ موت کے دوسری طرف چھلانگ لگائے، حتیٰ کہ وہ شخص بھی جو موت کا یا موت کے بعد آنے والی زندگی کا انکار کرتا ہو۔ دانش مند انسان وہ ہے جو اس حقیقت کو پیشگی طور پر جان لے ۔ اسی حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الکیس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت، والعاجز من أتبع نفسه هواه وتمنّى على الله ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 17123)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader