آخرت کا سفر
Urdu book, p. 616
By Maulana Wahiduddin Khan
ابدی انجام موجودہ دنیا میں ہر آدمی غلطیاں کرتا ہے، پھر وہ دیکھتا ہے کہ ہر غلطی کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اس نے اپنی غلطی کو درست کر لیا اور غلطی کرنے کے باوجود وہ غلطی کے بُرے انجام سے بچ گیا۔ یہ واقعہ ہر آدمی کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ ہر آدمی اس کو اپنی زندگی میں، یا دوسروں کی زندگی میں روزانہ دیکھتا ہے۔ اس عمومی تجربے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی غلطی کو ایک قابل تلافی خطا (compensating error) سمجھ لیتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ حتمی معنوں میں غلطی کوئی مہلک (fatal) چیز نہیں۔ غلطی وقتی طور پر ضرر و نقصان پہنچاتی ہے، لیکن جلد ہی کسی نہ کسی طور پر غلطی کی تلافی ہو جاتی ہے، اور پھر زندگی اپنے معمول پر آجاتی ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان آخرت کے معاملے کو بھی دنیا کے معاملے پر قیاس کرنے لگتا ہے۔ وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ غلطی کے انجام کے معاملے میں جو کچھ دنیا میں پیش آرہا ہے، وہی آخرت میں بھی پیش آئے گا۔ اسی نفسیات کا نتیجہ تھا کہ کچھ لوگوں نے آخرت کو مانتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ: لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً (2:80)۔ یہ صورت حال ہر عورت اور مرد کے لیے سخت آزمائش ہے۔ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچے اور آخرت کی پکڑ کے معاملے کو اُس کی اصل نوعیت کے اعتبار سے دریافت کرے۔ ہر عورت اور مرد کو یہ جاننا چاہیے کہ آخرت کا معاملہ دنیا کے معاملے سے بالکل مختلف ہے۔ موت کے بعد ہر ایک کو ایک ایسی ابدی دنیا میں داخل ہونا ہے، جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی، جہاں ہر آدمی اکیلا ہوگا، جہاں تلافیٔ مافات کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کے بعد ہر آدمی کو بہر حال اپنے عمل کے انجام کو بھگتنا ہے۔ آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کے بعد ہر آدمی اپنے آپ کو یا تو ابدی جنت میں پائے گا، یا ابدی جہنم میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader