Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

thinking) کے ساتھ رہنے والے ہوں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کے لیے بھی موافق حالات کا ملنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں مثبت سوچ پر قائم رہنے کا فارمولا (formula) صرف ایک ہے، اور وہ ہے یک طرفہ اخلاقیات (unilateral ethics) یعنی یک طرفہ طور پر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، خواہ وہ اچھا سلوک کرتا ہو یا برا سلوک۔ معرفت صرف اْس سینے میں جگہ پاتی ہے جو مکمل طور پر منفی احساس سے خالی ہو۔ جس دل کے اندر نفرت اور غصہ اور انتقام موجود ہو، اْس دل میں کبھی معرفت جگہ نہیں پائے گی۔ انسان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں خود قانونِ فطرت کے تحت روزانہ ناخوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی آدمی کے لیے معرفت کے حصول کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرے کہ وہ منفی تجربہ (negative experience) کو مثبت سبق میں تبدیل کر سکے۔ وہ ناخوش گوار حالات میں بھی اپنی مثبت سوچ پر قائم رہے۔ وہ اپنے اندر وہ برتر سوچ (high thinking) پیدا کرے جس کے بعد آدمی اِس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ماحول سے اثر قبول کئۓ بغیر اپنی بلند فکری کو برقرار رکھے۔ یہی وہ صفت ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کے معرفت کا سفر ُکنے کے بغیر ہر حال میں جاری رہے۔ خالق کے وجود کی دریافت ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227) یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس وسیع کائنات میں ایک فطری استثنا (natural exception) کے طور پر بنایا گیا ہے۔ اپنے اس ذاتی تجربے سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ جب یہاں ایک فطری استثنا ممکن ہے تو فوق الفطری استثنا (supernatural exception) بھی یقینی طور پر ممکن ہے۔ انسان کا وجود خدا کے وجود کو قابلِ فہم (understandable) بناتا ہے۔ وسیع خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے (stars and planets) ہیں۔ ہماری زمین میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page