معرفت الہی
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے جس کو ذہنی بیداری ( intellectual awakening) کہا جاتا ہے۔ وہ ایک نفس مطمئنہ (complex-free soul) بن جاتا ہے۔ اس کے اندر فرقان (الانفال، 8:29) کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کر کے دیکھنا۔ اس کے اندر مستقبل بینی کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی فکر کے اندر وہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے، جب کہ آدمی چیزوں کے اضافی پہلو کو دیکھ سکے۔ یہی وہ صفت ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے: A wise man is one who knows the relative value of things. معرفت کسی آدمی کے اندر زہد کی صفت پیدا کر دیتی ہے، یعنی دنیا سے بے رغبتی۔ یہی وہ انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: مَازَهِدَ عَبْدُ فِي الدَّنْيَا إِلَّا أَثْبَتَ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فِي قَلْبِهِ، وَأَنْطَقَ لَهَا لِسَانَهُ وَبَصَّرَهُ عَيْبَ الدُّنْيَا وَدَاءَهَا وَدَوَاءَهَا، وَأَخْرَجَهُ مِنْهَا سَالِمًا إِلَى دَارِ السَّلَامِ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 10050)، یعنی جو بندہ دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں حکمت کی پہچان ڈال دیتا ہے اور اس کی زبان پر حکمت کو جاری کر دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کے عیب دکھا دیتا ہے، اس کو وہ دنیا کی بیماری اور اس کے علاج سے باخبر کر دیتا ہے، اور اس کو وہ دارالسلام (جنت) تک سلامتی کے ساتھ پہنچا دیتا ہے۔ منفی سوچ نہیں حدیث میں آیا ہے کہ تم اِمَّعَة نہ بنو، یعنی تم یہ نہ کہو کہ دوسرا شخص تمھارے ساتھ جو سلوک کرے گا، وہی سلوک تم اس کے ساتھ کرو گے۔ اس کے بجائے تمھارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص تمھارے ساتھ برا سلوک کرے گا، تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے (لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا ) ۔ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007۔ معرفت صرف اُن عورتوں اور مردوں کو ملتی ہے جو ہمیشہ مثبت سوچ (positive

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader