معرفت الہی
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی معرفت کے بارے میں بلاشبہ یہ سب سے بڑا امتحان ہے۔ انسان کا ذہن ایک محدود ذہن ہے۔ اس کے باوجود انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ لامحدود خدا کی معرفت حاصل کرے۔ معرفت کا معاملہ اصلاًاً یہی ہے کہ ایک محدود ہستی، ایک لامحدود ہستی کو دریافت کرے اور کامل یقین کے ساتھ اس کو مان لے۔ یہی معرفت ہے۔ اس مرحلے کو پار کئے بغیر کسی کو معرفت کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ خدا کی دریافت کا معاملہ دوسری چیزوں کی دریافت سے مختلف ہے۔ مثلاً قوتِ کشش (gravity) بھی ایک دریافت کا موضوع ہے، لیکن یہ دریافت صرف ایک علمی دریافت ہے، اس کی بنیاد پر کسی کو ابدی انعام ملنے والا نہیں۔ لیکن خدا کی دریافت کے ساتھ ایک عظیم انعام جڑا ہوا ہے۔ خدا کی دریافت کرنے والے کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ اس لیے خدا کی دریافت کی ایک قیمت رکھ دی گئی۔ اس قیمت کو ادا کئے بغیر کسی کو خدا کی دریافت کا کریڈٹ نہیں مل سکتا۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی محدود ذہن کے ساتھ لامحدود کا احاطہ کرے، وہ عالمِ مشاہدہ (seen world) میں غیر مشہود خدا (unseen God) کو دریافت کرلے۔ اسی دریافت کا نام معرفت ہے، اور جنت کی قیمت یہی معرفت ہے۔ خاموشی اور معرفت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طَوِيلَ الصَّمْتِ (مسند احمد، حدیث نمبر 20810) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خاموش رہتے تھے۔ حدیث کی کتابوں میں خاموشی (silence) کی اہمیت کے بارے میں بہت سی روایتیں آتی ہیں۔ مثلاً: عَلَيْكُمْ بِالصَّمْتِ (سنن الدارمی، حدیث نمبر 2484) یعنی تم لوگ خاموشی کو لازم پکڑو۔ فَلْيَقُلْ خَيْراً أَوْ لِيَصْمُتْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018)۔ یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ بہتر بات بولے یا وہ خاموش رہے۔ مَنْ صَمَتَ نَجَا (مسند احمد، حدیث نمبر 6481) یعنی جو خاموش رہا، اس نے نجات پائی۔ إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ يَكُونَ ... صَمْتِي فِكْرَة (مسند الشهاب القضاعی، حدیث نمبر 1159)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader