Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔ خاموش رہنا صرف خاموش رہنا نہیں ہے، خاموش رہنے کا مطلب ہے ہی سوچنا اور غور وفکر کرنا۔ ایک مومن جب خاموش رہے گا تو وہ اپنے رب کے بارے میں سوچے گا، اسی کا نام معرفت ہے۔ خاموشی معرفت کا دروازہ ہے۔ سچی خاموشی آدمی کو سچی معرفت تک پہنچاتی ہے۔ خاموشی آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسٹرکشن (distraction) سے بچائے۔ وہ اپنے مشاہدات اور تجربات میں توجیہہ (explanation) کا اضافہ کرے ۔ وہ سادہ معلومات کو بامعنی معلومات بنائے۔ وہ عالم ظاہر سے نکل کر عالم باطن کا سفر کرے۔ وہ نفسیات کی سطح پر خدا اور فرشتوں سے رابطہ (contact) قائم کرے ۔ یہ تمام چیزیں آدمی کی معرفت میں اضافہ کرتی ہیں۔ معرفت کا ذریعہ غور وفکر ہے، اور خاموشی کے بغیر غور وفکر کا عمل ممکن نہیں۔ خاموشی کسی انسان کو غیر خدا سے دور، اور خدا سے قریب کر دیتی ہے۔ خاموشی کسی انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ پورے عالم وجود سے معرفت کی غذا حاصل کرے، اُس کا عارفانہ سفر غیر منقطع طور پر (non-stop) جاری رہے۔ ایک صحابی کی مثال مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اپنی بیماری میں روئے۔ اُن سے پوچھا گیا کہ اے ابو ہریرہ، کیا چیز آپ کو رلارہی ہے۔ انھوں نے کہا: میں تمھاری اس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادراہ کم ہے۔ میں نے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت اور جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھ کو ان دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (بَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ فِي مَرَضِهِ فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أَبْكِي عَلَى دُنْيَاكُمْ هَذِهِ وَلَكِنِّي أَبْكِي لِبُعْدِ سَفَرِي وَقِلَّةِ زَادِي. أَصْبَحْتُ فِي صُعُودٍ مَهْبِطَةٍ عَلَى جَنَّةٍ وَنَارٍ فَلَا أَدْرِي إِلَى أَيِّهِمَا يُسْلَكُ بِي ) - الطبقات الكبرى لابن سعد، 4/253۔ صحابی رسول کا یہ کلمہ اعلیٰ معرفت کا کلمہ ہے۔ جب انسان کی معرفت بڑھتی ہے تو اُس وقت اُس کا حال وہی ہو جاتا ہے جس کی ایک مثال صحابی رسول کے مذکورہ قول میں ملتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page