Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

(awakening) آچکی ہو تو ایسے ہر موقع پر وہ خدا کو دریافت کرے گا، ایسا ہر موقع اس کے لیے خدا کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا۔ یہ ایک سادہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ آدمی ہر وقت معرفت کی غذا لے سکتا ہے۔ خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سند یافتہ ہو یا غیر سند یافتہ، اس قسم کا تجربہ ہر عورت اور مرد کو روزانہ بار بار پیش آتا ہے۔ اگر آدمی اپنے ذہن کو کھلا رکھے، اگر اُس کے اندر تفکیر (thinking) کی صلاحیت زندہ ہو تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی (daily life) میں ہر لمحہ، معرفت کی خوراک حاصل کرتا رہے گا۔ اس کے دل و دماغ میں معرفت کا سرچشمہ مسلسل طور پر جاری رہے گا۔ عظمتِ انسانی وسیع خلا (space) میں بے شمار ستارے (stars) اور سیارے (planets) اور کہکشائیں (galaxies) ہیں۔ اس میں شمسی نظام (solar system) ہے جس میں بہت سے سیارے ہیں۔ اُن کے درمیان ایک استثنائی سیارہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ اس زمین پر لاتعداد مخلوقات ہیں۔ ان لاتعداد مخلوقات کے ہجوم میں انسان ہے جو انوکھی صفات کا حامل ہے۔ ایسی وسیع کائنات (vast universe) میں ایک انسان زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ بول کر انسانی الفاظ میں کہتا ہے کہ خدایا، تو رب العالمین ہے۔ میں نے تیری تمام صفتوں کے ساتھ تیری کبریائی کا اعتراف کیا۔ میں تیرے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ سرینڈر کرتا ہوں۔ انسان کے یہ الفاظ خلا میں گونجتے ہیں۔ ان کو کان والے بھی سنتے ہیں اور بغیر کان والے بھی۔ پھر ساری کائنات زبانِ حال سے پکار اٹھتی ہے دیکھو، یہ انسان بھی کتنا قابلِ رشک ہے۔ ہماری تخلیق میں پہلے سے خدا کی معرفت موجود تھی، انسان نے خود اپنی کوشش سے خدا کو دریافت کیا۔ ہم بولے بغیر خدا کی حمد کر رہے تھے، یہ انسان بول کر خدا کی حمد کر رہا ہے۔ ہم مجبورانہ اطاعت پر قائم تھے، انسان نے اختیارانہ اطاعت پر اپنے کو قائم کیا۔ ہم غیر شعوری سطح پر خدا سے تعلق قائم کر پائے تھے، انسان شعور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page