معرفت الہی
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
کی سطح پر دریافت کئے ہوئے الفاظ میں خالق کا نغمہ گاراہے۔ ہم حالت مشہود میں خالق کا اقرار کر رہے تھے، انسان حالت غیب میں ہوتے ہوئے خالق کا اعتراف کر رہا ہے۔ ہم گویا مقلدانہ انداز میں خدا کی عبادت کر رہے تھے، انسان تخلیقی (creative) انداز میں خدا کا عبادت گزار بنا ہوا ہے۔ ہم زبان حال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہے تھے، انسان زبان قال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہا ہے۔ ہم محدود سطح پر خدا کی تسبیح کر رہے تھے۔ انسان لامحدود سطح پر خدا کی تسبیح کرنے والا بنا ہوا ہے۔ یہی اعلیٰ معرفت ہے۔ اس قسم کی شعوری معرفت ساری کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ یہی وہ اعلیٰ معرفت والے لوگ ہیں جو جنت الفردوس میں داخل کئے جائیں گے۔ خدا اور جنت انسان کے اندر استثنائی طور پر فیکلٹی (faculty) پائی جاتی ہے ایک، سوچنے کی فیکلٹی (faculty of thinking) اور دوسرے، محظوظ ہونے کی فیکلٹی (faculty of enjoyment)۔ یہ دونوں صلاحیتیں انسان کو استثنائی طور پر دی گئی ہیں۔ اگر آدمی ان دونوں صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال کرے تو وہ ایک طرف خدا کے وجود کو دریافت کرلے گا اور دوسری طرف جنت کے وجود کو۔ سوچنا (thinking) انسان کی استثنائی صفت ہے۔ سوچنے کا ظاہر ہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات میں ایک ایسی مخلوق موجود ہے جو استثنائی طور پر تفکیر (thinking) کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ نے کہا تھا میں سوچتا ہوں، اس لیے میں موجود ہوں: I think, therefore, I exist. اسی طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ مفکر صغیر کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں مفکر کبیر بھی موجود ہے: The existence of small thinker is a proof of the existence of the big thinker. یہی معاملہ احساس تلذذ (sense of pleasure) کا ہے۔ انسان اگر غور کرے تو وہ دریافت کرے گا کہ وسیع کائنات میں وہ ایک انوکھا وجود ہے جو استثنائی طور پر لذت کا شعور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader