معرفت الہی
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے معرفت کا سفر مزید اضافے کے ساتھ جاری رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل جنت کے لیے سب سے زیادہ لذیذ تجربہ یہی ہوگا کہ وہ معرفت کے باغوں میں جئیں، وہ معرفت کی ہواؤں میں سانس لیتے رہیں۔ یہی بلاشبہ جنت کا سب سے زیادہ لذیذ عطیہ ہوگا۔ وجد اور معرفت کا فرق وجد (ecstasy) اور معرفت (realization) دونوں بظاہر مشابه (similar) الفاظ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے، دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ اسلامی صفت ہے، مگر وجد کا اسلام سے کوئی لازمی تعلق نہیں۔ وجد کا تجربہ کسی بھی شخص کو ہوسکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ وجد کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ رقص وسرود جیسی چیزیں بھی آدمی کے اندر وجد پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ معرفت کا تعلق شعوری دریافت سے ہے۔ جب ایک شخص غور وفکر کے ذریعہ اپنے خالق کو دریافت کرتا ہے تو اس کو فکر کی سطح پر ایک ربانی دریافت ہوتی ہے۔ اسی کو معرفت کہا جاتا ہے۔ معرفت کو دوسرے الفاظ میں ذہنی ارتقا (intellectual development) کہا جا سکتا ہے۔ ذہنی ارتقا اگر خالص فطری انداز میں ہو تو وہ لازماً آدمی کو اپنے خالق کی دریافت تک پہنچائے گا، اور خالق کی شعوری دریافت ہی کا دوسرا نام معرفت ہے۔ وجد (ecstasy) اس کے برعکس، کوئی شعوری چیز نہیں، وہ ایک کیفیاتی حالت ہے۔ اس قسم کی کیفیت مختلف چیزوں سے پیدا ہوسکتی ہے، مذہبی چیز سے بھی اور غیر مذہبی چیز سے بھی۔ معرفت آدمی کے اندر سوچ اور فکر کی صلاحیت کو جگاتی ہے، مگر وجد کے ذریعے صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک سرور کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ آدمی کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو بے فکری کی حالت میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ وجد کسی آدمی کو ایک مبہم قسم کا سرور تو ضرور دے سکتا ہے، لیکن وجد کسی آدمی کے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کی صفت پیدا انہیں کرسکता۔ معرفت کسی آدمی کے اندر فکری بیداری پیدا کرکے اس کو اپنے رب سے ملا دیتی ہے، جب کہ وجد کسی آدمی کو صرف اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم رہے، وہ اپنے سے باہر کسی حقیقت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader