معرفت الہی
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی شعوری طور پر اس فقدان سے باخبر ہو جائے، وہ متلاشی (seeker) بن جاتا ہے۔ اور جو آدمی اپنی ذات کے اس فقدان سے باخبر نہ ہو، وہ ہمیشہ محرومی کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ خدا کی معرفت انسان کی اسی تخلیقی کمی کا جواب ہے۔ خدا کی معرفت کے سوا کوئی اور چیز انسان کی اس کمی کو پورا کرنے والی نہیں۔ جس طرح بلب پاور ہاؤس سے کنکشن کے بغیر روشن نہیں ہوتا، اسی طرح معرفت کے بغیر کسی انسان کی زندگی ایک بے نور زندگی ہوتی ہے، کوئی اور چیز اس کی شخصیت کو منور کرنے والی نہیں۔ ارتقا پذیر معرفت ایک مغربی مبصر نے لکھا ہے کہ ہر دن صبح کو جب سورج کی پہلی کرن تمھارے کمرے میں داخل ہو تو تم اچھل کر بستر سے اٹھو اور کہو کہ ایک اور نئی شان دار صبح: Wonderful, what a new bright sun! خدا جو سورج کا خالق ہے، اس کی معرفت بلا شبہ سورج سے بے شمار گنا زیادہ ہے۔ جس انسان کو خدا کی دریافت ہو جائے، وہ ہر صبح و شام خدا کی نئی تجلی کو دریافت کرے گا، اس کی معرفتِ خدا ربانی تجلیات کا ایک لامناہی سفر بن جائے گی۔ معرفت پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں ہے، معرفت درخت کی مانند ایک نمو پذیر چیز ہے۔ ایک چھوٹا سا بیج بڑھتے بڑھتے ایک سرسبز درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ معرفت کا بھی ہے۔ معرفت کا آغاز اقرار ایمان سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ یہ اقرار ایمان ترقی کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ معرفت کا ایک ہرا بھر ا درخت، بلکہ معرفت کا ایک پورا باغ بن جاتا ہے۔ معرفت کے ارتقا کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے، آدمی کی موت سے پہلے وہ ختم نہیں ہوتا۔ معرفت، خدا کے آلاء (wonders of God) کی دریافت کا نام ہے۔ خدا کے آلاء بے شمار ہیں، اس لیے خدا کی معرفت بھی ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ ہمیشہ نئی نئی دریافتوں کے ذریعہ یہ سفر مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ موت اس سفر کا خاتمہ نہیں۔ موت کے بعد اہل ایمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader