Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

(manage کر رہا ہے۔ آخر کار خدا قیامت برپا کرے گا۔ اس کے بعد وہ لوگ منتخب کر لیے جائیں گے جنھوں نے خدا کی نظر میں اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور جنھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، وہ چھانٹ کر الگ کر دیئے جائیں گے۔ اس معاملے کو بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: The descendants of the wicked shall be cut off.(Psalm 37: 38 جن اور انس کی تخلیق قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیارہ زمین (planet earth) کو استثنائی طور پر اس طرح بنایا ہے کہ یہاں زندگی کی بقا ممکن ہو سکے۔ خدا نے زمین پر وہ موافق نظام قائم کیا جس کو معاون حیات نظام (life support system) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد زمین پر سب سے پہلے جنات (الحجر، 27: 15) کو آباد کیا۔ زمین ایک عرصے تک جنات کے چارج میں رہی۔ جن، آگ سے پیدا کئے گئے تھے۔ انھوں نے زمین پر فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنات کو معزول کر کے انسان کو پیدا کیا اور ان کو زمین پر بسایا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے جب انسان کو بنایا، اُس وقت یہاں دو اور مخلوق جن اور ملائکہ (angels) موجود تھے۔ خدا نے دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے سجدہ کریں۔ یہ سجدہ اس بات کی علامت تھا کہ جن اور ملائکہ انسان کے لیے رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ وہ انسان کو آزادی کے ساتھ عمل کا موقع دیں گے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (2:30)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خلیفۃ اللہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خلیفۃ الجن ہے، یعنی جنات کو ہٹا کر ان کی جگہ زمین پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا گیا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب خدا نے انسان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو فرشتوں نے اس پر اپنے تردّد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: أتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء (2:30)۔ یہ بات فرشتوں نے غالباً جنات کے متعلق اپنے سابق تجربے کی بنیاد پر کہی۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ جب آزادی پا کر جنات نے زمین پر فساد برپا کیا، تو اسی طرح انسان بھی آزادی پا کر زمین میں فساد برپا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page