معرفت تخلیق
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ (2:30) یعنی میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جن اور انسان میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کے خالق نے اس کی تخلیق میں استثنائی طور پر ایک طاقت ور جذبہ شامل کیا جس کو ندامت (feeling of guilt) کہا جاتا ہے، یعنی انسان اپنی آزادی کا بے جا استعمال کر کے ایک غلطی کرتا ہے، لیکن اس کے بعد اس کے اندر ندامت کا احساس جاگتا ہے اور وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ یہ جذبہ ندامت جنات کے اندر موجود نہ تھا جن کو خالق نے آگ سے پیدا کیا تھا۔ اسی جذبہ ندامت کی بنا پر یہ امید تھی کہ انسان غلطی کر کے مستقل طور پر سرکش نہیں بن جائے گا، جیسا کہ ابلیس نے کیا، بلکہ وہ غلطی کرنے کے بعد نادم ہوگا اور دوبارہ اصلاح کے راستے پر چلنے لگے گا۔ ندامت (repentance) کا یہ جذبہ انسان کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی صراطِ مستقیم سے بھٹکنے کے بعد دوبارہ مزید شدت کے ساتھ اُس پر قائم ہو جائے۔ اس معاملے کی پہلی مثال خود انسانِ اول آدم کی زندگی میں ملتی ہے۔ قرآن کے مطابق، انھوں نے ایک غلطی کی اور پھر توبہ کر کے انھوں نے نبوت کا درجہ حاصل کیا (121-122: 20)۔ بعد کی تاریخ میں اس قسم کی ایک معلوم مثال عمر بن عبدالعزیز اموی (وفات 720ء) کی ہے۔ اُن سے ایک غلطی ہوئی اور پھر انھوں نے توبہ کی (البدایۃ والنہایۃ، 9 / 103)۔ اس کے بعد اُن کو یہ درجہ حاصل ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز فرد قرار پائے، حتیٰ کہ اُن کو خلفاءِ راشدین کی فہرست میں شامل کر کے پانچواں خلیفہ کہا گیا۔ انسان کا مقصدِ حیات قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنات اور انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں (51:56)۔ عبد اللہ بن عباس شاگرد مجاہد کی تفسیر کے مطابق، اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے (القرطبی 17 / 55)۔ معرفت سے مراد کوئی پر اسرار معرفت نہیں ہے۔ یہ دراصل خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader