معرفت تخلیق
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
’رُحماء بینھم‘ کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ صحابہ دوسروں کے لیے مہربان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے لیے مہربان ہونا، ایک نہایت مشکل کام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناپسندیدہ روش کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر عمومی طور پر یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے نفرت اور شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بنا پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا، صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے کہ آدمی شکایتوں سے اوپر اٹھ جائے ۔ وہ اتنا زیادہ باشعور ہو کہ وہ منفی تجربات کو مثبت احساس میں تبدیل کر سکے۔ دوسروں کے لیے مہربان ہونے کا مطلب ہے، یک طرفہ طور پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا۔ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ کے اندر وہ خصوصی صفت موجود تھی جس کو مثبت سوچ (positive thinking) کہا جاتا ہے۔ صحابہ مثبت ذہن رکھنے والوں (positive thinkers) کا ایک گروہ تھے ۔ اسی یک طرفہ مثبت سوچ کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ شکایات کے باوجود لوگوں کے لیے ہمدرد بن جائیں، لوگوں کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آنے کے باوجود وہ لوگوں کے لیے خیر خواہ بنے رہیں ۔ فتنے کا خاتمہ صحابہ کی جماعت نے جو کام انجام دیا، اُس میں سے ایک خاص کام وہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقاتلوھم حتی لا تکون فتنة، ويكون الدين كله لله (8:39) ۔ فتنے سے مراد وہی چیز ہے جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر، مذہب کی نسبت سے سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اسی حقیقت کی طرف قرآن کی سورہ البروج (85:4-8) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس عمومی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں صرف یہی نہیں تھا کہ مذہب کے بارے میں اختیار (choice) ختم ہو گیا تھا، بلکہ ہر پہلو سے آزادانہ غور و فکر کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ حکومتیں اس مذہبی جبر کی سر پرستی کرتی تھیں، کیوں کہ اربابِ حکومت اس کو اپنے سیاسی اقتدار کے باقی رکھنے کے لیے نہایت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader