Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کردار کے اہم پہلو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (29: 48) اس آیت میں 'والذين معه' سے مراد ہے تاریخی عظمت قائم ہونے سے پہلے خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبر کو پہچاننا، اور اس کی تصدیق کر کے اس کے مشن میں کامل طور پر اس کا ساتھی بن جانا۔ صحابہ کی جماعت میں یہ صفت ایک تاریخی استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیغمبر اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کے معاصرین ان کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ صحابہ کے اندر یہ صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ اس صحرائی تربیت نے اُن کو آخری حد تک حقیقت پسند (realist) بنا دیا۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ ایک حقیقت کو وہ اس کی مجرد صورت میں پہچان سکیں۔ عام طور پر لوگ کسی انسان کو صرف اُس وقت پہچانتے ہیں جب کہ بعد کو اس کے گرد تاریخ کی عظمتیں جمع ہوگئی ہوں۔ صحابہ وہ معاصر اہلِ ایمان تھے جنھوں نے تاریخی عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس کی ساعت عسره (التوبہ، 9:117) میں پہچانا اور اس کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح وقف کر دیا۔ 'أشداء على الكفار' کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ منکرین پر سخت یا بے رحم تھے۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے : ہو شدید علی (وہ میرا اثر قبول نہیں کرتا)۔ اس اعتبار سے، اشداء علی الکفار کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ اہل انکار کے لیے غیر اثر پذیر افراد کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کا شعور اتنا زیادہ بیدار تھا کہ وہ ماحول کا اثر قبول کئے بغیر اپنے اسلامی کردار پر قائم رہ سکتے تھے۔ اس واقعہ کو دوسرے الفاظ میں، اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ اپنے ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning) کو قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ پوری طرح کنڈیشننگ سے پاک شخصیت (de-conditioned personality) کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے اندر یہ استثنائی صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ یہ لوگ بنو اسماعیل کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اور بنو اسماعیل کے لیے ان کے صحرائی ماحول میں وہ تمدنی اسباب سرے سے موجود ہی نہ تھے جو لوگوں کی کنڈیشننگ کریں اور اس طرح اُن کو ان کی فطرت سے ہٹا دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page