تدبیر نہ کہ ٹکراؤ
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
تدبیر نہ کہ ٹکراؤ مولانا جلال الدین رومی (1273-1207) کا درجہ مسلمانوں میں بہت اونچا ہے۔ تقریباً 26 ہزار اشعار پر مشتمل ان کی مثنوی معنوی مسلمانوں کے درمیان تقدس کی حد تک مقبول ہے۔ یہ مثنوی صدیوں تک ایک رہنما کتاب کی حیثیت سے علماء کے درمیان پڑھی جاتی رہی ہے۔ 1258ء میں تاتاریوں نے بغداد کو تباہ کیا اور عباسی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے مسلم دنیا پر اپنی ظالمانہ حکومت قائم کر دی۔ اس وقت مولانا روم کی عمر تقریباً پچاس سال تھی۔ انہوں نے اپنی مثنوی کے ذریعہ مسلمانوں کو روحانی اور اخلاقی سبق دیا اور انہیں اوپر اٹھانے کی کوشش کی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے وقت کے مسائل میں بھی مسلمانوں کو رہنمائی دی۔ انہوں نے اپنی فارسی مثنوی میں حکایت اور تمثیل کی زبان میں مسلمانوں کو بتایا کہ ان حالات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایک سبق آموز کہانی شیر اور خرگوش کی کہانی ہے جو مثنوی کے "دفتر اول" میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے : جنگل میں ایک شیر تھا۔ وہ ہر روز اپنی بھوک مٹانے کے لیے جانوروں پر حملہ کرتا تھا اور پکڑ کر انہیں اپنی خوراک بناتا تھا، اس کے نتیجہ میں تمام جانور مستقل طور پر دہشت اور خوف میں پڑے رہتے تھے۔ آخر انہوں نے اس کا ایک حل نکالا۔ انہوں نے شیر سے بات کر کے اس کو اس پر راضی کیا کہ وہ ان پر حملہ نہ کرے۔ وہ خود اپنی طرف سے ہر روز ایک جانور اس کے پاس بھیج دیا کریں گے۔ اس تجویز پر عمل ہونے لگا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ ہر روز قرعہ کے ذریعہ یہ طے کیا جاتا کہ آج کون سا جانور شیر کی خوراک بنے گا۔ جس جانور کے نام قرعہ نکلتا اس کو شیر کے پاس بھیج دیا جاتا۔ اس طرح تمام جانور امن کے ساتھ جنگل میں رہنے لگے۔ آخر کار قرعہ ایک خرگوش کے نام نکلا۔ یہ خرگوش پہلے سے سوچے ہوئے تھا کہ جب میرے نام قرعہ نکلے گا تو میں اپنے آپ کو شیر کی خوراک بننے نہیں دوں گا۔ بلکہ تدبیر کے ذریعہ خود شیر کو ہلاک کر دوں گا۔ سوچے سمجھے منصوبہ کے مطابق، خرگوش ایک گھنٹہ کی تاخیر کے ساتھ شیر کے پاس پہنچا۔ شیر بہت بھوکا تھا وہ تاخیر کی بنا پر اس کے اوپر بگڑ گیا۔ نیز صرف ایک چھوٹا خرگوش دیکھ کر اس کو اور بھی زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader