Urdu book · کتابِ زندگی

تدبیر نہ کہ ٹکراؤ

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

غصہ آیا۔ خرگوش نے نرمی اور لجاہت سے کہا کہ جناب، بات یہ ہے کہ آپ کی سلطنت میں ایک ایسا اور شیر آ گیا ہے۔ جانوروں نے آپ کی آج کی خوراک کے لیے دو خرگوش بھیجے تھے، مگر دوسرا شیر ہمارے اوپر جھپٹا۔ ایک کتو اس نے پکڑ لیا۔ میں کسی طرح بھاگ کر آپ کے پاس آیا ہوں۔ اب شیر کا غصہ دوسرے شیر کی طرف مڑ گیا۔ اس نے چلا کر کہا کہ دوسرا شیر کون ہے جس نے اس جنگل میں آنے کی جرات کی ہے۔ مجھے اس کے پاس لے چلو۔ تا کہ میں اس کا قصہ تمام کر دوں۔ اب خرگوش کے ساتھ شیر روانہ ہوا۔ خرگوش نے شیر کو ادھر اُدھر گھمایا اور آخر میں اس کو ایک کنویں کے کنارے لا کر کھڑا کر دیا اور کہا کہ حضور، وہ شیر اس کے اندر موجود ہے، آپ خود اس کو دیکھ لیں۔ شیر نے کنویں کے اوپر سے جھانکا تو نیچے پانی میں اس کو اپنا عکس نظر آیا۔ اس نے سمجھا کہ خرگوش کا کہنا درست ہے اور واقعہً اس کے اندر ایک اور شیر موجود ہے۔ شیر غرایا تو دوسرا شیر بھی غرا اٹھا۔ اپنی سلطنت میں اس طرح ایک اور شیر کا گھس آنا اس کو برداشت نہیں ہوا۔ وہ چھلانگ لگا کر مفروضہ شیر کے اوپر کود پڑا۔۔ اور پھر کنویں میں پھٹ پڑا امر گیا۔ اس طرح ایک خرگوش نے تدبیر کی طاقت سے شیر جیسے دشمن کا خاتمہ کر دیا۔ مولانا روم آخر میں کہتے ہیں کہ اس کی تدبیر کا جال گویا شیر کا پھندا تھا۔ کیسا عجیب تھا وہ خرگوش جو ایک شیر کو اچک لے گیا: دام مکر او کمند شیر بود طرفہ خرگوشی کہ شیرے را ربود یہ حکایت کی زبان میں ایک رہنمائی تھی جو مولانا روم نے اپنے زمانہ کے مسلمانوں کو دی۔ مولانا روم نے مسلمانوں کو مجاہدانہ اقدام پر نہیں ابھارا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ جنگل کے تمام باسیوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر شیر کے اوپر حملہ کر دیں۔ اگر انہوں نے شیر کو مار ڈالا تو وہ غازی کا لقب پائیں گے۔ اور اگر شیران کو مارنے میں کامیاب ہو گیا تب بھی کوئی نقصان نہیں۔ کیوں کہ ایسی صورت میں وہ سب کے سب شہید قرار دیے جائیں گے۔ اور جس کو شہادت کا درجہ ملے اس کو بہت بڑا درجہ مل گیا۔ مولانا روم نے اس کے برعکس، مسلمانوں کو حکیمانہ تدبیر کی طرف رہنمائی دی۔ انہوں نے موت کے بجائے زندگی کا طریقہ بتایا۔ ان کی بتائی ہوئی حکیمانہ تدبیر میں انسان کو ابتداء چھوٹا بننا پڑتا ہے مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر وہ بڑائی اور فتح کے بلند مقام کو پا لیتا ہے۔ مولانا روم کی یہ نصیحت حال کے لیے بھی اتنی ہی کارآمد ہے جتنی وہ ماضی کے لیے کارآمد تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page