Urdu book · کتابِ زندگی

دوسرا موقع

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

عقلمندی یہ ہے کہ جو مواقع ابھی باقی ہیں ان پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ٹائمز آف انڈیا 13 اپریل 1989 (صفحہ 4) میں نیویارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ سپر کمپیوٹر میں امریکہ سے آگے بڑھ جانے کے لیے جاپان کی کوشش: Japan`s bid to excel the US in supercomputers رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپر کمپیوٹر کے میدان میں امریکہ کا طویل مدت کا غلبہ اب مشتبہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی ایک کارپوریشن کے تجزیہ کاروں نے مطالعہ کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ جاپان کا بنایا ہوا ایک سپر کمپیوٹر 1990 ء میں مارکیٹ میں آجائے گا۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیز کام کرنے والی مشین ہوگی۔ جاپانیوں نے اس نئے کمپیوٹر کا نام ایس ایکس۔ ایکس (SX-X) رکھا ہے۔ اس کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ وہ ایک سیکنڈ میں سائنٹفک قسم کے حساب کے 20 بلین آپریشن کر سکتا ہے۔ یہ جاپانی کمپیوٹر امریکہ کے تیز ترین کمپیوٹر سے 25 فیصد زیادہ تیز رفتار ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی مزید خصوصیت یہ ہے کہ کا مل صحت کارکردگی کے ساتھ نسبتاً وہ خرچ بھی ہے۔ اس سپر کمپیوٹر کی اہمیت صرف سائنٹفک ریسرچ، تیل کی تلاش اور موسم کی پیشین گوئی جیسی چیزوں ہی تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ وہ نیشنل سکیورٹی کے لیے بھی بے حد اہم سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ نئے جاپانی کمپیوٹر نے دنیا کو ایک نئے صنعتی دور میں پہنچادیا ہے۔ موجودہ کمپیوٹر جو کسی زمانہ میں ’جدید‘ سمجھے جاتے تھے، اب وہ روایتی اور مقلیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ جاپان کی اس ایجاد نے اس کو خود فوجی میدان میں بھی برتری عطا کردی ہے۔ امریکہ نے ’’سپر بم‘‘ بنا کر 1945ء میں جاپان کو تباہ کر دیا تھا۔ مگر وہ جاپان سے یہ امکان نہ چھین سکا کہ وہ ’’سپر کمپیوٹر‘‘ بنا کر دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لے اور صرف 45 سال کے اندر تاریخ کا رخ موڑ دے۔ تخریب ، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو، وہ تعمیر نو کے مواقع کو ختم نہیں کرتی ، اور تعمیر کی طاقت، بہر حال تخریب کی طاقت سے زیادہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page