کامیابی کا ٹیکٹ
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیابی کا ٹکٹ امریکہ میں ایشیائی ملکوں سے آتے ہوئے جو لوگ آباد ہیں ان کو عام طور پر ایشیائی امریکی (Asian American) کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ زیادہ تر 1965ء کے بعد یہاں آئے۔ امریکہ میں ان کی موجودہ تعداد تقریباً 2 فیصد ہے۔ ان میں کچھ یہودی ہیں، کچھ بدھسٹ ہیں، کچھ کنفیوشش کو ماننے والے ہیں، اور اسی طرح بعض دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ امریکہ میں اپنے مستقبل کی تعمیر کا مطلب اگر وہ یہ سمجھتے کہ ان کے فرقہ کا آدمی صدر کے عہدہ پر پہنچ جائے تو انہیں امریکہ میں اپنے لیے ترقی کا دروازہ بالکل بند نظر آتا۔ کیوں کہ صدر کے عہدہ کے لیے امریکہ کا پیدائشی شہری (natural-born citizen) ہونا ضروری ہے، اور ایشیائی لوگ اس تعریف میں نہیں آتے۔ صدارت کو اپنا نشانہ بنانے کی صورت میں ایشیائی مہاجرین یا تو مایوسی کا شکار ہوتے یا اس بات کی نا کام مہم چلاتے کہ امریکی دستور میں ترمیم کر کے صدارت کی اس شرط کو ختم کیا جائے تا کہ ان کا آدمی بھی صدر کے عہدہ کے لیے جائز امید وار بن کر کھڑا ہو سکے۔ مگر ایشیائی امریکیوں نے اس قسم کی حماقت نہیں کی۔ انہوں نے اپنے واقعی حالات کے اعتبار سے امریکہ کا جائزہ لیا تو انہیں نظر آیا کہ یہاں ان کے جیسی اقلیت کے لیے اگر چہ صدارتی عہدہ تک پہنچنے کے مواقع نہیں ہیں، مگر اعلیٰ تعلیمی عہدوں تک پہنچنے کے مواقع پوری طرح موجود ہیں۔ انہوں نے پایا کہ تعلیم ان کے لیے کامیابی کے ٹکٹ (ticket to success) کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اپنی ساری طاقت تعلیم کے حصول میں لگا دی۔ چنانچہ انہیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ۔ حتیٰ کہ تعداد میں 2 فیصد ہوتے ہوئے وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 20 فیصد سیٹوں پر قابض ہو گئے۔ یہی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مواقع آدمی کے لیے کھلے ہوتے ہیں اور کچھ مواقع اس کے لیے کھلے ہوئے نہیں ہوتے۔ آدمی کی بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ اگر اس نے بند فاصلہ دروازوں سے سر ٹکرایا تو دروازہ تو نہیں کھلے گا، البتہ اس کا سر ضرور ٹوٹ جائے گا۔ خاص طور پر تعلیم آج کی دنیا میں کامیابی کا ٹکٹ ہے، اور اس ٹکٹ کو حاصل کرنے کے مواقع ہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader