کامیابی کا ٹیکٹ
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کے لیے ہر جگہ کھلے ہوتے ہیں۔ یہ اصول جو افراد کی ترقی کا راز ہے، وہ ملکوں اور قوموں کی ترقی کا راز بھی ہے۔ اس سلسلہ میں جاپان ایک قابل تقلید مثال پیش کرتا ہے۔ جاپان کے بارے میں ایک امریکی مصنف کی ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے: جاپان نمبر ایک کی حیثیت سے۔ ڈھائی سو صفحہ کی اس کتاب میں مصنف نے دکھایا ہے کہ جاپان کس طرح دوسری جنگ عظیم میں مکمل شکست سے دوچار ہونے کے بعد دوبارہ اس طرح کھڑا ہوگیا کہ خود اپنے فاتح (امریکہ) کے لیے چیلنج بن گیا۔ مصنف کے الفاظ میں، جاپانی لوگ تبدیلی کے آقا بن گئے، بجائے اس کے کہ وہ اس کا شکار ہو جائیں۔ دوسرے ممالک کو بیرونی اثرات نے برباد کر دیا مگر جاپان نے اس سے طاقت پائی: Thus they became the masters of change rather than the victims. Other countries were devastated by foreign influence, but japan was invigorated. Ezra F. Vogel, Japan As Number One Harward University Press, London 1979, p. 256 مصنف کے نزدیک جاپان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس نے فوجی اور سیاسی میدان میں شکست کھانے کے بعد اپنے میدان عمل کو بدل دیا اور اپنی ساری توجہ علم کی راہ میں لگادی۔ اس کتاب کے تیسرے باب میں مصنف نے بتایا ہے کہ جاپان کی موجودہ کامیابی کا واحد عامل (single factor) اگر کسی چیز کو قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے جاپانی قوم میں علم (knowldge) کی تلاش کا لامتناہی جذبہ۔ اس سلسلہ میں منصف نے لکھا ہے: When a foreign visitor comes to Japan, most Japanese almost instinctively think, "What can I learn from him?" And the three million japanese who now travel abroad each year look for little hints of new ideas they might apply at home. (p. 29) جب باہر کا کوئی آدمی جاپان آتا ہے تو اکثر جاپانی تقریباً جبلی طور پر سوچتے ہیں: ”میں اس سے کیا بات سیکھ سکتا ہوں‘‘ اور تین ملین جاپانی جو آج کل ہر سال باہر کی دنیا کا سفر کرتے ہیں وہ جب باہر پہنچتے ہیں تو وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں کوئی نیا تصور ہاتھ آجاۓ جس کو واپس جاکر وہ اپنے ملک میں استعمال کرسکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader