محرومی کے بعد
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
محرومی کے بعد بھی سموئل بٹلر (Samuel Butler) انیسویں صدی کا مشہور انگریز مصنف ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ زندگی اس فن کا نام ہے کہ نا کافی مقدمات سے کافی نتائج اخذ کیے جائیں: Life is the art of drawing sufficient conclusions from insufficient premises. سموئل بٹلر نے یہ بات فطری تعقل کے تحت کہی ہے۔ مگر زندگی کے بارے میں شریعت نے جو تصور دیا ہے وہ بھی عین یہی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں خدا نے جو نظام بنایا ہے، اس میں آسانی کے ساتھ مشکل لگی ہوئی ہے (إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا) 6:94۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایک پہاڑی راستہ کو دیکھا جس کا نام لوگوں نے الضِّيَّقَة (دشوار) رکھ دیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کا نام تو اليُسْرَى (آسان) ہے (مغازی الواقدی، جلد 3، صفحہ (925)۔ گویا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی عصر میں یسر کو دریافت کرے ۔ وہ دشوار گزار راستہ کو آسان راستہ کے روپ میں دیکھ سکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس تعلیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ آپ کو سخت ترین مشکلات پیش آئیں، مگر آپ نے حکیمانہ تدبیر سے ان کو اپنے حق میں آسان بنا لیا۔ آپ نے ڈس ایڈوانٹج (disadvantge) کو ایڈوانٹج میں تبدیل کر لیا۔ ایک مستشرق مسٹر کیلٹ (E.E.Kellet) نے آپ کی اس صفت کمال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے مشکلات کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں : He faced adversity with the determination to wring success out of failure. دنیا میں ایک طرف انسان ہے جو دوسرے انسان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ دوسری طرف خدا کا نظام ہے جس نے ہر مشکل کے ساتھ اس کا حل بھی رکھ دیا ہے۔ ایسی حالت میں انسانی مشکلات پر شور کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی نے انسان کے عمل کو دیکھا مگر وہ خدا کے عمل کو نہ دیکھ سکا۔ کیوں کہ اگر وہ خدا کے عمل کو دیکھتا تو شکایت کرنے کے بجائے وہ اس کو استعمال کرنے میں لگ جاتا۔ اس دنیا میں ہر ناکامی کے بعد ایک نئی کامیابی کا امکان آدمی کے لیے باقی رہتا ہے۔ ضرورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader