Urdu book · کتابِ زندگی

محرومی کے بعد

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف یہ ہے کہ آدمی اس امکان کو استعمال کر کے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب بنا لے۔ الرساله (دسمبر 1988ء) میں کینڈ اکھیلاڑی بن جانسن (Ben Johnson) کا قصہ چھپ چکا ہے۔ اس کا عنوان ہے : مصنوعی کامیابی۔ دوڑ کے عالمی مقابلہ میں اس نے اول درجہ کی کامیابی حاصل کی۔ مگر اگلے ہی دن اس کا جیدا ہوا گولڈ میڈل اس سے چھین لیا گیا۔ مزید اس کے بارے میں یہ سخت فیصلہ کیا گیا کہ وہ اگلے دو سال تک کھیل کے مقابلوں میں حصہ نہ لے سکے گا۔ بن جانسن کے لیے یہ اس کی زندگی کا شدید ترین حادثہ تھا۔ تاہم اس نے ”ظالم حبوں“ کے خلاف احتجاج میں وقت ضائع نہیں کیا۔ اس نے از سر نو اپنی تیاری کا منصوبہ بنایا۔ اٹلی کے ٹیلی وزن نیٹ ورک نے نومبر 1988ء میں بن جانسن کا ایک با تصویر انٹرویو اس کی رہائش گاہ (ٹورانٹو) پر لیا جس کی تفصیل اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (29 نومبر 1988ء) کے مطابق ایک سو میٹر دوڑ کے عالمی چیمپئن بن جانسن نے ٹیلی وزن کیمرہ کے سامنے روتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر کھیل کے اصولوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ تاہم وہ اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ بارسلونہ (اسپین) میں 1992ء میں ہونے والے اولمپک کھیلوں میں واپس آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عالمی ریکارڈ ٹریک پر 13 سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ تھا۔ بظاہر وہ بہت افسردہ دکھائی دے رہے تھے۔ سیول اولمپک کے بعد پیش آنے والے مشکل لمحات کا ذکر کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے ۔ انٹرویو لینے والے مسٹر گیانی منولی (Gianni Minoli) نے کہا کہ شوٹنگ کا کام پانچ منٹ تک روک دینا پڑا۔ کیوں کہ بن جانسن اپنی سسکیوں پر قابو نہیں پا سکتے تھے۔ بن جانسن نے بتایا کہ ٹرک پر واپس آنے کے لیے وہ ہفتہ میں چھ دن چار گھنٹہ روزانہ ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا کام صرف دوڑنا ہے۔ بیٹھے رہنے کی بات میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ میری خواہش یہ ہے کہ میں دوبارہ مقابلہ میں حصہ لوں۔ انہوں نے میرا سونے کا تمغہ مجھ سے لیا ہے، نہ کہ میری رفتار: They have taken away my gold medal, not my speed. چھینے والا ہمیشہ آپ کی کوئی چیز چھینتا ہے، نہ کہ خود آپ کو۔ آپ کا وجود اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ پھر بھی آپ کو حاصل رہتا ہے۔ اس حاصل شدہ متاع کو استعمال کیجیے، اور پھر ہر محرومی کے بعد آپ اپنی ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page