Urdu book · کتابِ زندگی

مشتعل نہ کیجیے

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

مشتعل نہ کیجیے ہندوستان میں سب سے زیادہ شیر گیر کے جنگل میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں ان کے لیے بہت بڑا کھلا پارک بنایا گیا ہے جس کو Gir forest sanctuary کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں 20 سے بھی کم تعداد میں شیر پائے جاتے تھے۔ مگر مئی 1990ء کی گنتی کے مطابق، اب وہاں 280 شیر ہیں۔ ان شیروں کی وجہ سے انسانی زندگی کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (22 اگست 1990ء) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو برسوں میں ان شیروں نے علاقہ کے 16 آدمی مار ڈالے اور 140 آدمیوں کو زخمی کیا۔ ان حادثات کے بعد مسٹر روی چیلہم کی قیادت میں ایک ٹیم کو مقرر کیا گیا تا کہ وہ صورت حال کے بارے میں تحقیق کرے۔ انہوں نے تحقیق کے بعد یہ بتایا ہے کہ شیروں نے اگرچہ بہت سے انسانوں کو نقصان پہنچایا اور ان پر حملے کیے۔ مگر یہ حملے محض شیروں کی درندگی کی بنا پر نہ تھے۔ ریسرچ کرنے والوں نے انسان کے اوپر شیر کے اکثر حملوں کا سبب اشتعال انگیزی کو قرار دیا ہے: The researchers have attributed most of the lion attacks on human to provocations of the animals. شیر ایک خون خوار درندہ ہے۔ وہ انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مگر شیر اپنی ساری درندگی کے باوجود اپنی فطرت کے ماتحت رہتا ہے۔ اور اس کی فطرت یہ ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کے بغیر کسی انسان کے اوپر حملہ نہ کرے۔ یہ قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ”درندہ انسانوں“ کے ظلم سے کس طرح بچایا جائے۔ درندہ انسان کے ظلم سے بچنے کی واحد یقینی تدبیر یہ ہے کہ اس کو اس کی فطرت کی ماتحتی میں رہنے دیا جائے۔ اشتعال دلانے سے پہلے ہر انسان اپنی فطرت کے زیر حکم رہتا ہے۔ اور اشتعال دلانے کے بعد ہر آدمی اپنی فطرت کے حکم سے باہر آ جاتا ہے۔ گویا فطرت خود ہر آدمی کو ظلم و فساد سے روکے ہوئے ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو جوابی کارروائی کرنے کی کیا ضرورت۔ مشتعل ہونے سے پہلے شیر ایک بے ضرر حیوان ہے۔ مشتعل ہونے کے بعد شیر ایک مردم خور حیوان بن جاتا ہے۔ آپ شیر کو مشتعل نہ کیجیے، اور پھر آپ اس کے نقصان سے محفوظ رہیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page