Urdu book · کتابِ زندگی

مقابلہ کی ہمت

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کی شخصیت ادھوری رہ جائے۔ وہ اپنی امکانی ترقی کے درجہ تک نہ پہنچ سکے۔ 6 جنوری 1990ء کے اخبارات جو خبریں لائے، ان میں سے ایک خبر یہ تھی کہ اظہر الدین کو اتفاق رائے سے قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ وہ نیوزی لینڈ جانے والی انڈین کرکٹ ٹیم کے لیڈر ہوں گے۔ یہ بات کرکٹ حلقوں کے لیے انتہائی تعجب خیز تھی۔ کیوں کہ عام خیال تھا کہ یہ عہدہ سری کانت کو دیا جائے گا جو شارجہ کپ، نہرو کپ اور پاکستان کے دورہ پر جانے والی حالیہ ٹیم کے کپتان رہے ہیں۔ 27 سالہ اظہر الدین حیدر آبادی کو کرکٹ میں ان کی مہارت کی وجہ سے ونڈر بوائے (wonder boy) کہا جاتا ہے۔ اظہر الدین ہندوستانی کرکٹ کے دوسرے کم عمر کپتان ہیں۔ ان سے قبل منصور علی خان پٹودی 21 سال کی عمر میں قومی ٹیم کے کپتان بنائے گئے تھے۔ اظہر الدین کو جس چیز نے اس اعلیٰ عہدے پر پہنچایا، وہ ان کی یہ صلاحیت ہے کہ چیلنج پیش آنے پر وہ بے ہمت نہیں ہوتے، بلکہ مزید طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ دسمبر 1989ء میں دورہ پاکستان کے آغاز میں اظہر الدین کا ٹیسٹ کیریئر خطرہ میں پڑ گیا تھا۔ کیوں کہ فیصل آباد ٹیسٹ کی پہلی باری میں وہ کوئی خاص اسکور نہ کر سکے تھے، بلکہ صفر پر ہی آؤٹ ہو گئے تھے۔ لیکن دوسری باری میں شاندار سنچری بنا کر انہوں نے اپنا ٹیسٹ کیریئر تباہ ہونے سے بچالیا۔ ٹائمز آف انڈیا (6 جنوری 1990ء) کی رپورٹ کے مطابق، سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین مسٹر راج سنگھ دنگر پور نے کہا کہ اظہر الدین کو منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کو محبوب رکھتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے دورہ میں دیکھا گیا جہاں وہ پہلے ٹیسٹ میں چنے نہ جانے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اور یہ قیادت کی نہایت اہم خصوصیت ہے: He loves getting out of challenging situations, as was seen on the tour of pakistan where he was on the verge of being dropped from the first Test, and that`s an important ingredient in leadership. یہ دنیا چیلنج کی دنیا ہے۔ یہاں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو چیلنج کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ یہ صفت کسی آدمی کے اندر جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی زیادہ بڑی کامیابی وہ اس دنیا میں حاصل کرے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page