Urdu book · کتابِ زندگی

مقابلہ کی ہمت

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

ضمیر کی طاقت ابوالبرکات علوی (63 سال) نظام پور ضلع اعظم گڑھ (یوپی) کے رہنے والے ہیں۔ 29 اگست 1989ء کی ملاقات میں انہوں نے اپنے علاقہ کا ایک واقعہ بتایا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اعظم گڑھ کے شمال مغرب میں ایک گاؤں ریدا ہے جو مجھوئی ندی کے کنارے فیض آباد کی سرحد پر واقع ہے۔ یہاں چار گھر مسلمانوں کے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہندوؤں کے دو سو گھر آباد ہیں۔ نومبر 1987ء میں ایسا ہوا کہ باہر سے ایک نیل گائے آیا اور گنے کے کھیت میں داخل ہو گیا۔ ایک مقامی مسلمان جھنّو درزی نے چاہا کہ اس کا شکار کیا جائے۔ انہوں نے پڑوس کے گاؤں مخدوم پور میں ایک مسلمان کو اس کی خبر کی جس کے پاس بندوق ہے۔ وہ اپنی بندوق لے کر آئے اور نیل گائے پر فائر کیا۔ اگر نیل گائے موقع پر مر گیا ہوتا تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ مگر نشانہ صحیح نہیں لگا۔ نیل گائے زخمی ہو گیا اور خون بہاتا ہوا بھاگا۔ ہندوؤں نے جب جابجا خون دیکھا تو مشتعل ہو گئے۔ ان کو معلوم ہوا کہ جھنّو درزی نے مخبری کر کے نیل گائے پر گولی دلوائی ہے تو انہوں نے گاؤں میں پنچایت کی اور جھنّو کو بلا کر اس کو یہ سزا سنائی کہ تم نے جو قصور کیا ہے اس کے بدلے تمہارے اوپر ایک ہزار روپیہ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اس گاؤں میں کوئی سطحی لیڈر جھنّو درزی کو بہکانے کے لیے موجود نہ تھا اور نہ مسلمانوں کا وہاں کوئی زور تھا جو جھنّو درزی کو چھوٹے بھرم میں مبتلا کرے ۔ چنانچہ فطرت نے جھنّو درزی کی رہنمائی کی ۔ وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا: پنچوں کا فیصلہ مجھ کو منظور ہے۔ میں غریب آدمی ہوں۔ میرے پاس نقد روپیہ موجود نہیں۔ مگر میں اپنے گھر کا سامان بیچ کر اس کو ادا کروں گا۔ تین دن گزرے تھے کہ ہندوؤں کا ضمیر جاگ اٹھا۔ انہوں نے دوبارہ اپنے لوگوں کی پنچایت بلائی۔ انہوں نے آپس میں کہا کہ یہاں مسلمان بہت تھوڑے اور کمزور رہیں۔ باہر کے لوگ جب سنیں گے کہ ہم نے ان سے جرمانہ وصول کیا ہے تو وہ ہم لوگوں کو بہت گرا ہوا سمجھیں گے اور ہمارے بے عزتی ہوگی کہ ہم نے مسلمانوں کو کمزور پا کر انہیں دبا لیا۔ اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ جھنّو درزی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page