Urdu book · کتابِ زندگی

دماغی اضافہ

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

دماغی اضافہ سرسی وی رمن (1970_1888ء) ہندوستان کے مشہور سائنس دان تھے۔ وہ تروچراپلی میں پیدا ہوئے اور بنگلور میں ان کی وفات ہوئی۔ آخر وقت میں وہ رمن ریسرچ انسٹی ٹیُوٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ اس کے علاوہ وہ بہت سے علمی عہدوں پر فائز رہے۔ 1930ء میں ان کو فزکس کا نوبل پرائز دیا گیا۔ رمن کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون سنڈے ریویو (17 مارچ 1991ء) میں چھپا ہے۔ اس کا ایک اقتباس یہ ہے_ رمن کا یقین تھا کہ سائنس دماغ سے آتی ہے، نہ کہ سازوسامان سے۔ ان کے ایک شاگرد نے ایک بار شکایت کی کہ اس کے پاس ریسرچ کا کام کرنے کے لیے صرف ایک کلوواٹ کا لیمپ ہے، جب کہ بیرونی ملکوں میں اس کے برابر کے ایک طالب علم کے پاس 10 کلوواٹ کا لیمپ ہوتا ہے۔ رمن نے اس طالب علم کو جواب دیا کہ تردد نہ کرو، تم اپنے مسئلہ کی تحقیق میں 10 کلوواٹ کا دماغ رکھ لو: Raman believed that science came from the brain and not from equipment. When one of his pupils in spectroscopy complained that he had only a 1kw lamp whereas his competitor abroad had a 10 KW lamp, Raman told him "Don`t worry. Put a 10M KW brain to the problem." یہ بات نہایت درست ہے_ اس دنیا میں ہر کام کا تعلق دماغ سے ہے۔ سامان کی کمی کو دماغ سے پورا کیا جاسکتا ہے، مگر دماغ کی کمی کو سامان سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ دوسوسال اور تین سوسال پہلے مغرب میں جو سائنس دان پیدا ہوئے، ان میں سے کسی کے پاس وہ اعلیٰ سامان نہیں تھا جو آج کسی یونیورسٹی میں ایک ریسرچ طالب علم کے پاس ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے کم سامان کے ساتھ کام کیا۔ مثلاً نیوٹن نے کروسین کے لیمپ کے ذریعہ کام کیا، کیوں کہ اس وقت بجلی کا استعمال ہی شروع نہ ہوا تھا۔ وغیرہ۔ مگر یہی سائنس دان تھے جنہوں نے جدید مغربی سائنس کی بنیادیں قائم کیں۔ اس اصول کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ جب بھی کسی شخص کو محسوس ہو کہ اس کے پاس سرمایہ یا وسائل یا سازوسامان کی کمی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دماغی محنت کو بڑھا لے۔ اس کی دماغی محنت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page