دماغی اضافہ
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے لیے ہر دوسری کمی کی تلافی بن جائے گی۔ فطرت نے دماغ کی صورت میں انسان کو حیرت انگیز طاقت دی ہے۔ دماغ کو استعمال کر کے آدمی اپنی ہر کمی کی تلافی کر سکتا ہے۔ مسٹر کمال علیگ (پیدائش 1958) نے یکم فروری 1989 کی ملاقات میں اپنا ایک واقعہ بتایا۔ وہ پہلے سگریٹ پیتے تھے۔ 1984 سے انہوں نے مکمل طور پر سگریٹ کو چھوڑ دیا ہے۔ 1976ء سے 1981ء تک وہ تعلیم کے سلسلہ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تھے۔ اس زمانہ میں وہ ’’چین اسموکر‘‘ تھے۔ ایک روز کا واقعہ ہے۔ امتحان کا زمانہ قریب تھا۔ وہ رات کو دیر تک پڑھنے میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ رات کو ایک بجے کا وقت ہو گیا۔ اس وقت انہیں سگریٹ کی طلب ہوئی۔ دیکھا تو دیا سلائی ختم ہو چکی تھی۔ ہیٹر بھی بگڑا ہوا تھا۔ ایک طرف اندر سے سگریٹ کی سخت طلب اٹھ رہی تھی، دوسری طرف کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جس سے سگریٹ کو جلایا جا سکے۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک ان کے دماغ پر یہ سوال چھایا رہا۔ وہ اس سوچ میں پڑے رہے کہ سگریٹ کو کس طرح جلایا جائے ۔ آخر ایک تدبیر ان کے ذہن میں آئی۔ ان کے کمرہ میں بجلی کا سو واٹ کا بلب لٹک رہا تھا۔ انہوں نے سوچا کہ اس جلتے ہوئے بلب میں اگر کوئی ہلکی چیز لپیٹ دی جائے تو کچھ دیر کے بعد گرم ہو کر وہ جل اٹھے گی۔ انہوں نے ایک پرانا کپڑا لیا اور اس کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر جلتے ہوئے بلب کے اوپر لپیٹ دیا۔ تقریباً 5 منٹ گزرے ہوں گے کہ کپڑا جل اٹھا۔ کمال صاحب نے فوراً اس سے اپنا سگریٹ سلگایا اور اس کے کش لینے لگے۔ اسی کا نام ’’دماغی محنت‘‘ ہے۔ عام لوگ محنت کے نام سے صرف جسمانی محنت کو جانتے ہیں۔ مگر محنت کی زیادہ بڑی قسم وہ ہے جس کا نام دماغی محنت ہے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی ترقیاں وہی ہیں جو دماغی محنت کے ذریعہ حاصل کی گئی ہیں۔ جسمانی محنت پھاوڑا چلانے یا ہتھوڑ مارنے کا کام انجام دے سکتی ہے۔ مگر ایک سائنٹفک فارم یا جدید طرز کا ایک کارخانہ بنانے کا کام صرف دماغی محنت کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ جسمانی محنت اگر آپ کو ایک روپیہ فائدہ دے سکتی ہو تو آپ دماغی محنت کے ذریعہ ایک کروڑ روپیہ کما سکتے ہیں۔ جسمانی محنت صرف یہ کر سکتی ہے کہ وہ دوڑ کر بازار جائے اور ایک دیا سلائی خرید کر لائے اور اس کے ذریعہ سے اپنی سگریٹ سلگائے۔ مگر دماغی محنت ایسی حیرت انگیز طاقت ہے جو دیا سلائی کے بغیر آپ کے سگریٹ کو سلگادے، جو ظاہری آگ کے بغیر آپ کے گھر کو روشن کر دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader