مقصد کا شعور
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط فہمی گرم علاقوں میں ایک خاص قسم کا پتنگا پایا جاتا ہے۔ اس کو عام طور پر عبادت گزار مینٹس (Preying mantis) کہا جاتا ہے۔ زیادہ صحیح طور پر اس کا نام شکاری مینٹس (Preying mantis) ہونا چاہیے۔ کیونکہ وہ کیڑوں مکوڑوں کا شکار کر کے ان سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے۔ مینٹس کی دنیا بھر میں ایک ہزار قسمیں دریافت کی گئی ہیں۔ وہ ایک انچ سے سات انچ تک لمبا ہوتا ہے۔ اپنے ماحول کے اعتبار سے اس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً بھورا، لال اور ہرا۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے گھر کے پاس کھلی زمین میں اپنا کچن گارڈن (kitchen garden) بنایا۔ چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں دھنیا، مرچ، بینگن، ٹماٹر وغیرہ کی کاشت کی۔ جب پودے بڑھے اور خوب سرسبز ہو گئے تو ایک روز اس نے دیکھا کہ اس کی کیاری کے اندر بڑے دوہرے رنگ کے کیڑے موجود ہیں۔ اس کو اندیشہ ہوا کہ یہ میری سبزیوں کو کھائیں گے اور ان کو نقصان پہنچائیں گے۔ اس نے فوراً ان دونوں کیڑوں کو پکڑا اور انہیں مار ڈالا۔ شام کو اس کا ایک دوست اس سے ملنے کے لیے آیا۔ وہ مقامی کالج میں علم نباتات (botany) کا استاد تھا۔ اس نے اپنے دوست سے فاتحانہ انداز میں کہا کہ آج میرے کچن گارڈن میں دو بڑے کیڑے آگئے۔ وہ میری سبزیوں کو کھانا چاہتے تھے۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ میری سبزیوں کو نقصان پہنچائیں، میں نے انہیں مار ختم کر دیا۔ اس واقعہ کو اس نے کچھ ایسے انداز سے بیان کیا کہ دوست کو خیال آیا کہ وہ نئے کیڑے کون سے تھے۔ اس نے پوچھا کہ وہ مرے ہوئے کیڑے کیا اب بھی موجود ہیں کہ میں انہیں دیکھوں۔ اس کے بعد آدمی نے اپنے دوست کو دونوں کیڑے دکھائے۔ دوست نے کہا کہ تم نے تو بڑی نادانی کی۔ تم جانتے نہیں، یہ تو مینٹس ہے، اور مینٹس سبزی خور کیڑا (herbivorous) نہیں، وہ تو مسلمہ طور پر ایک گوشت خور کیڑا (carnivorous) ہے۔ وہ یہاں قدرت کی طرف سے تمہاری مدد کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader