Urdu book · کتابِ زندگی

مقصد کا شعور

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے آیا تھا۔ اس کی فطرت کے خلاف تھا کہ وہ کسی سبزی کو کھائے۔ وہ تمہاری سبزیوں کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچاتا۔ وہ صرف ان کیڑوں کو کھاتا جو سبزیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور جن کو ختم کرنا تمہارے لیے سخت مشکل ہے۔ تم بھی کیسے نادان نکلے کہ تم اپنے فائدہ اور نقصان کو نہ سمجھ سکے۔ تم نے اپنے ایک قیمتی چوکیدار کو مار ڈالا۔ دوست کی زبان سے یہ الفاظ سنتے ہی آدمی کی زبان بند ہوگئی۔ اس کو اپنے کیے پر بے حد افسوس ہوا۔ یہاں تک کہ وہ بیمار پڑ گیا اور کئی دن تک کام کرنے کے قابل نہ رہا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط فہمی کسی آدمی کو کتنی بڑی کوتاہیوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص شدید غلط فہمی میں پڑ کر دوسرے شخص کی جان مار ڈالے، حالانکہ یہ دوسرا شخص بالکل بے قصور ہو۔ وہ ایک آدمی کو بے عزت کرنے پر تل جائے، حالاں کہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ ایسا آدمی ہو کہ اس کے ساتھ نہایت عزت و احترام کا سلوک کیا جائے۔ اسی لیے شریعت میں یہ حکم ہے کہ رائے قائم کرنے یا کسی کے خلاف اقدام کرنے سے پہلے اس کے معاملہ کی پوری تحقیق کرو۔ ایسا ہرگز مت کرو کہ کسی کے خلاف ایک خبر سنو اور فوراً اس کو مان لو، اور اس کے خلاف ایک بُرا اقدام کر بیٹھو۔ عین ممکن ہے کہ تحقیق کے بعد تم کو معلوم ہو کہ جو خبر تم کو پہنچی تھی، وہ خبر سراسر غلط اور بے بنیاد تھی: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس ایک خبر لائے تو تم اس خبر کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے (49:6)۔ غلط خبر کو سن کر اس کے انجام سے بچنے کی تدبیر نہایت آسان ہے۔ وہ یہ کہ کسی بات کو سننے کے بعد اس وقت تک اسے نہ مانا جائے جب تک براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق نہ کرلی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page