Urdu book · کتابِ زندگی

نفع بخشی کی طاقت

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

سوا دوسری ہر بنیاد فرضی ہے جو ہوا کے پہلے ہی جھونکے میں زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ ہندوستان ٹائمز (28 دسمبر 1990ء) نے ایک ہندوستانی صحافی مقیم واشنگٹن مسٹر این سی منن کی رپورٹ چھاپی ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ عام طور پر لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ جب روسی صدر میخائل گورباچیف نے راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں انڈیا کا دورہ کیا۔ اس وقت سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے انڈیا، چین اور سوویت یونین کے درمیان قریبی تعاون کی تجویز پیش کی تھی تاکہ امریکی دیو (اور شاید یورپ کے ابھرتے ہوئے اتحاد) کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوستانہ دھڑا قائم کیا جا سکے۔ صدر گورباچیف نے بے رحمانہ صاف گوئی کے ساتھ اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ نئی ٹیکنالوجی ہے، اور نئی ٹیکنالوجی ہم کو نہ چین دے سکتا ہے، اور نہ انڈیا: پچھلے چالیس سال سے روس نے "سرمایہ دار مغرب" کو اپنا دشمن سمجھ رکھا تھا۔ اور "سوشلسٹ انڈیا" کو اپنا دوست بنائے ہوئے تھا۔ مگر لمبے تجربے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ انڈیا سے اس کو کوئی فائدہ نہیں، جب کہ سرمایہ دار مغرب اس کی ترقی میں نہایت اہم مددگار بن سکتا ہے۔ اس نے انڈیا کو چھوڑ دیا اور اختلاف اور شکایت کو نظر انداز کرتے ہوئے سرمایہ دار مغرب سے دوستی قائم کر لی۔ ”سرمایہ دار ملک“ نے اپنی نفع بخشی کی صلاحیت کے ذریعہ اپنے سب سے بڑے دشمن کو جیت لیا، اور سوشلسٹ انڈیا کی غیر نفع بخشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو اپنے سب سے بڑے دوست سے محروم ہو جانا پڑا— یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا اصل راز ہے۔ اس دنیا میں کامیابی نفع بخشی کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ الفاظ کا گنبد کھڑا کرنے سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page