Urdu book · کتابِ زندگی

یقینی حل

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

یقینی حل الرسالہ اکتوبر 1986 کو پڑھ کر ایک صاحب نے طویل خط (17 اکتوبر 1986) لکھا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے، آپ کا سفر نامہ نہ صرف معلوماتی ہوتا ہے بلکہ اندازِ بیان کے لحاظ سے بھی منفرد۔ اس بار بھی بمبئی کا سفر نامہ ایسا ہی ہے۔ اس سفر نامہ میں ہیبر لال ڈرائیور سے آپ کی ملاقات اور ایکسیڈنٹ سے بچے رہنے کی تدبیر کے بارے میں پوچھے گئے آپ کے سوال کا جواب پڑھنے کو ملا۔ اور مجھے اس سے ملتا جلتا ایک قصہ یاد آگیا۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی 55 سالہ زندگی میں ایک بھی ایکسیڈنٹ نہیں کیا۔ ایک بار وہ محفوظ ڈرائیونگ پر لیکچر دیتے ہوئے بولا: مجھے یہ بتانے میں ایک منٹ کا وقت بھی نہیں لگے گا کہ محفوظ ڈرائیونگ کس طرح کی جاتی ہے۔ اس کا طریقہ بہت آسان ہے۔ ڈرائیونگ کے وقت بس یہ بات ذہن میں رکھیے کہ آپ کے سوا دنیا کا ہر ڈرائیور پاگل ہے۔ (محی الدین محمد۔ حیدر آباد) ’پاگل‘، اس شخص کا نام ہے جو مرفوع القلم ہو۔ جس سے کسی قسم کی توقع نہ کی جاسکے۔ اور جہاں فریق ثانی کی طرف سے کوئی توقع نہ ہو وہاں دو طرفہ بنیاد پر سوچنا بالکل بے معنی ہے۔ ایسے مواقع پر آدمی ہمیشہ یک طرفہ سوچتا ہے۔ اور ایک طرفہ طور پر مسئلہ کا حل تلاش کرتا ہے۔ چنانچہ ہر آدمی جانتا ہے کہ پاگل سے لڑنا نہیں ہے بلکہ پاگل سے بچنا ہے۔ پاگل کے مسئلہ کا حل اس سے اعراض کرنا ہے، نہ کہ اس سے ٹکراؤ کرنا۔ جو ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو پاگل سمجھ لے وہ دوسروں کی شکایت نہیں کرے گا۔ وہ ساری توجہ خود اپنی طرف لگا دے گا۔ وہ کہیں اپنی گاڑی کو روک لے۔ کہیں وہ پیچھے ہٹ جائے گا اور کنارے کی طرف سے اپنا راستہ نکالے گا۔ سڑک کا جو مسافر اس طرح یک طرفہ طور پر ذمہ داری اپنے آپ پر ڈال لے وہ کبھی سڑک کے حادثہ سے دوچار نہیں ہو سکتا۔ مذکورہ ڈرائیور نے ایک لفظ میں زندگی کا راز بتا دیا ہے۔ اس کی مراد دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ آپ دوسروں سے کچھ امید نہ رکھیے۔ ساری ذمہ داری یک طرفہ طور پر خود قبول کیجیے اور اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page