Urdu book · کتابِ زندگی

یقینی حل

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد آپ یقینی طور پر ایکسیڈنٹ سے دو چار نہیں ہوں گے۔ ڈرائیور نے جو بات سڑک پر حادثات سے بچنے کے بارے میں کہی۔ وہی وسیع تر زندگی میں حادثات سے بچنے کے بارے میں بھی درست ہے۔ آپ اپنی زندگی میں یقینی طور پر سماجی حادثات سے بچ سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ آپ ایک طرفہ طور پر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار بنا لیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں مسائل کا سب سے زیادہ یقینی حل وہی ہے جس پر مذکورہ ڈرائیور نے عمل کیا اور اپنی ڈرائیونگ کی طویل زندگی میں حادثات سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔ خالص طبی معنوں میں پاگل انسانوں کی تعداد ساری دنیا میں بمشکل ایک فیصد ہوگی۔ مگر دوسرے اعتبار سے دنیا کے 99 فیصد انسان امکانی طور پر پاگل ہیں۔ عام حالات میں بظاہر لوگ بالکل ٹھیک نظر آتے ہیں۔ مگر جب آدمی کے ذاتی مفاد کا معاملہ آ جائے، جب اس کی انا کو ٹھیس لگے۔ جب فریق ثانی کی کسی بات پر اس کے اندر غصہ بھڑک اٹھے۔ جب اس کا سابقہ کسی ایسے شخص سے پڑے جس سے اس کی ان بن ہو گئی ہو، تو اس وقت شریف آدمی بھی غیر شریف بن جاتا ہے۔ صحیح دماغ کا انسان بھی پاگل پن پر اتر آتا ہے۔ ایک بار حیدر آباد سے محبوب نگر جاتے ہوئے میرے خود میرے ساتھ ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ ہماری گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ اچانک ایک بیل سڑک پر آ گیا۔ جو صاحب کار کو چلا رہے تھے انہوں نے یہ نہیں کیا کہ بیل کے خلاف احتجاج کریں یا بدستور اپنی گاڑی دوڑتے رہیں۔ انہوں نے فوراً بریک لگا کر گاڑی کو روکا، اور ایک لمحہ رک کر اندازہ کیا کہ بیل کدھر جا رہا ہے۔ بیل نے جب سڑک کے آدھے سے زیادہ حصہ پار کر لیا، اور یہ واضح ہو گیا کہ وہ مشرق کی طرف جا رہا ہے تو انہوں نے اپنی گاڑی مغرب کی طرف گھمائی اور بیل کے کنارے کی طرف سے راستہ نکال کر آگے کے لیے روانہ ہو گئے۔ زندگی کے مسائل ہمیشہ یک طرفہ کارروائی کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔ جو لوگ دو طرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل کرنا چاہیں، موجودہ دنیا میں ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں کہ وہ بے فائدہ احتجاج کرتے رہیں اور اسی حال میں دنیا سے چلے جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page