Urdu book · کتابِ زندگی

سلیقہ مندی

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

سلیقہ مندی کمانا مشکل ہے مگر خرچ کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ جو شخص صحیح طور پر خرچ نہ جانے، وہ کم آمدنی میں بھی زیادہ آمدنی والی زندگی گزار سکتا ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی صحیح طور پر خرچ کرنا نہ جانے، وہ زیادہ آمدنی میں بھی کم آمدنی والے مسائل میں مبتلا رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص سلیقہ اور کفایت کے ساتھ خرچ کرنا جانے، اس کو گویا اپنی آمدنی کو بڑھانے کا ہنر معلوم ہو گیا۔ اس نے اپنی آمدنی میں مزید کمائے بغیر اضافہ کر لیا۔ خرچ کرنے سے پہلے سوچیے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح آپ کمانے سے پہلے سوچتے ہیں۔ جو کچھ کیجیے منصوبہ بند انداز میں کیجیے، اور پھر آپ کبھی معاشی پریشانی میں مبتلا نہ ہوں گے۔ فضول خرچی کا دوسرا نام معاشی تنگی ہے۔ اور کفایت شعاری کا دوسرا نام معاشی فارغ البالی۔ اس حقیقت کی وضاحت کے لیے یہاں دو واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ مجھے ایک صاحب کا واقعہ معلوم ہے۔ انہوں نے ایم ایس سی کیا۔ اس کے بعد ان کو 400 روپیہ ماہوار کی سروس ملی۔ انہوں نے طے کیا کہ اس رقم میں سے صرف دوسوروپیہ کو میں اپنی آمدنی سمجھوں گا اور بقیہ دوسو کو سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کروں گا۔ ان کی تنخواہ بڑھتی رہی۔ ایک ہزار، 2 ہزار، 3 ہزار، 4 ہزار، 5 ہزار۔ مگر انہوں نے ہمیشہ کل تنخواہ کے نصف کو اپنی آمدنی سمجھا اور بقیہ نصف کو ہر ماہ بینک میں جمع کرتے رہے۔ اس طرح کی دس سالہ زندگی گزارنے کے بعد انہوں نے اپنا اکاؤنٹ دیکھا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے اکاؤنٹ میں ایک بڑی رقم جمع ہو چکی ہے۔ اب انہوں نے سروس چھوڑ کر بزنس شروع کر دیا۔ آج وہ اپنے بزنس میں کافی ترقی کر چکے ہیں۔ مگر زندگی کا جو طریقہ انہوں نے ابتدا میں اختیار کیا تھا اسی پر وہ آج بھی قائم ہیں۔ وہ نہایت کامیابی کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ اب اس کے برعکس مثال لیجیے۔ ایک صاحب کو وراشتی تقسیم میں یک مشت ایک لاکھ روپیہ ملا۔ انہوں نے اس کے ذریعہ سے کپڑے کی ایک دکان کھولی۔ دکان بہت جلد کامیابی کے ساتھ چلنے لگی۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page