Urdu book · کتابِ زندگی

سلیقہ مندی

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

چند سال کے بعد ان کی دکان ختم ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے آمدنی اور لاگت کے فرق کو نہیں سمجھا۔ مثلاً ان کی دکان پر اگر 5 ہزار روپیہ کا کپڑا بکے تو اس میں ساڑھے چار ہزار روپیہ لاگت کا ہوتا تھا اور 500 روپیہ آمدنی کا۔ مگر وہ دکان میں آئی ہوئی رقم کو اس طرح خرچ کرنے لگے جیسے کہ 5 ہزار کی پوری رقم آمدنی کی رقم ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ فضول خرچی کی بدترین شکل تھی۔ چنانچہ چند سال میں وہ دیوالیہ ہو کر ختم ہو گئے۔ اس دنیا میں سلیقہ مند زندگی کا نام خوش حالی ہے اور بے سلیقہ زندگی کا نام بد حالی۔

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ مِنَ السَّرَفِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر (3352)۔ یعنی یہ اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کے کھانے کو تمھارا دل چاہے۔ یہی بات حضرت عمر فاروق نے ان الفاظ میں کہی: كَفَى بِالْمَرْءِ سَرَفًا أَنْ يَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَى (الزهد والرقائق لابن المبارک، اثر نمبر 769)۔ یعنی آدمی کے فضول خرچ ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر اس چیز کو کھائے جو اس کا اس کا دل چاہے۔ سرف اور اسراف کے لفظی معنی فضول خرچی (waste) کے ہیں، یعنی اپنے مال کو ایسی چیز میں خرچ کرنا جو آدمی کے لیے ضروری نہ ہو، وہ اس کی صرف ایک خواہش (desire) ہو، نہ کہ اس کی حقیقی ضرورت (need)۔ ہر آدمی دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے— ضرورت ، اور خواہش۔ اپنے مال کو ضرورت کے بقدر خرچ کرنا، بلاشبہ ایک جائز فعل ہے۔ لیکن خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنا، ایک ایسا فعل ہے جس کے لیے انسان کو آخرت کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page