Urdu book · کتابِ زندگی

کامیابی کا راز

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیابی کا راز ٹاٹا خاندان نے صنعت کے میدان میں ہندوستان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ ان کا صنعتی پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ اس کو ٹاٹا انڈسٹریل ایمپائر کہا جاتا ہے۔ یہ ترقی انہیں اتفاقاً حاصل نہیں ہوگئی۔ بلکہ اس کے معلوم اسباب ہیں۔ ان اسباب میں نمایاں ترین وہ اخلاقی اوصاف ہیں جس کا ثبوت وہ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے دے رہے ہیں۔ 1۔ صنعتی کامیابی کی یہ کہانی گجرات کے ایک پارسی جمشید جی نوشیرواں جی ٹاٹا (1904-1839) سے شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے 1868ء میں بمبئی میں 21 ہزار روپیہ کی لاگت سے ایک تجارتی کمپنی شروع کی ۔ جمشید جی ٹاٹا کے بعد اس کے بڑے صاحبزادے دوار جی ٹاٹا نے اس کمپنی کو آگے بڑھایا۔ انھوں نے اسٹیل کا کارخانہ ٹاٹا اسٹیل وغیرہ قائم کیا۔ یہ ابتدا ترقی کرتے کرتے آج ایک انڈسٹریل ایمپائر بن چکی ہے۔ مگر ٹاٹا گروپ پورے استقلال اور اتحاد کے ساتھ اپنی مہم میں لگا ہوا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے استقلال اور اتحاد کو توڑنے والی نہ بن سکی۔ 2۔ دورابی ٹاٹا کے بعد جے آر ڈی ٹاٹا نے 1938 میں اس کاروبار کو بہت زیادہ ترقی دی ہے۔ ان کو بجا طور پر عظیم بصیرت والا انسان (great visionary) کہا جاتا ہے۔ ان کی بصیرت اور دوراندیشی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے ہندوستان میں ہوا بازی کی اہمیت کو سمجھا۔ وہ پہلے ہندوستانی پائلٹ ہیں جن کو مارچ 1929ء میں ہوائی جہاز چلانے کا لائسنس دیا گیا۔ 1932 میں پہلی ہوائی کمپنی ٹاٹا ایئرویز کے نام سے قائم کی گئی تھی۔ آزادی کے بعد 1947 میں ہندوستانی حکومت نے ٹاٹا ایئرویز میں بڑا حصہ خرید کر اس کو اپنے کنٹرول لے لیا۔ پھر اس کا نام ائیر انڈیا رکھ دیا گیا۔ 3۔ جهانگیر رتن جی دادا بھائی ٹاٹا (1993-1904 ,JRD Tata) غیر معمولی وسعت ظرف کے مالک ہیں۔ 1930 میں آغا خان نے اعلان کیا کہ انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان جو شخص سب سے کم وقت میں جہاز اڑا کر لے جائے گا اس کو وہ بہت بڑا انعام دیں گے۔ اس پر جے آرڈی ٹاٹا نے کراچی سے اپنا جہاز اڑایا۔ ایک اور شخص لندن سے روانہ ہوا۔ درمیان میں دونوں تیل لینے کے لیے قاہرہ میں اترے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page