امید کا پیغام
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
)۔ یہ قول نہایت با معنی ہے۔ وہ زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتا ہے۔ یہ کہ اس دنیا میں کوئی نقصان صرف نقصان نہیں۔ یہاں ہر عسر کے ساتھ یسر ہے۔ یہاں ہر نقصان کے ساتھ ایک فائدہ کا پہلو لگا ہوا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اس کو نقصان پیش آئے تو وہ مایوس ہو کر بیٹھ نہ جائے، بلکہ اپنے ذہن کو سوچ کے رخ پر لگائے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ایسا امکان دریافت کر لے جو نہ صرف اس کے نقصان کی تلافی کرے بلکہ اس کو مزید اضافہ کے ساتھ کامیاب بنا دے۔ ایک شخص دیہات میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوا۔ 1925ء میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا جب کہ اس کی عمر صرف 6 سال تھی۔ باپ کے مرنے کے بعد خاندان والوں نے جائیداد پر قبضہ کر لیا۔ اس کو ایک معمولی مکان کے سوا کوئی اور چیز نہیں ملی۔ مجبور ہو کر دس سال کی عمر میں وہ کمانے کے لیے نکلا۔ وہ دیہات سے نکل کر شہر میں چلا گیا۔ عرصہ تک وہ محنت مزدوری کرتا رہا۔ حالات نے اس کو دستکاری کے ایک کام میں لگا دیا۔ اپنی محنت سے وہ ترقی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے ایک کارخانہ کھول لیا۔ اس کی ترقی جاری رہی۔ 70 سال کی عمر میں جب وہ مرا تو وہ ایک بڑا صنعت کار ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے کروڑوں روپیہ کی جائیداد چھوٹی۔ اس آدمی کے ساتھ اگر عُسر کی حالت پیش نہ آتی۔ دیہات میں اس کے تمام کھیت اس کو مل جاتے تو وہ اسی میں لگ جاتا۔ وہ ایک کسان کی حیثیت سے جیتا اور کسان کی حیثیت سے مرتا۔ مگر عُسر اور نقصان نے اس کو واپر اٹھایا۔ اس کے تلخ تجربات نے اس کو زرعی دور سے نکال کر صنعتی دور میں پہنچادیا۔ زندگی کے امکانات کی کوئی حد نہیں۔ ہر بار جب ایک امکان ختم ہوتا ہے تو وہیں زیادہ بڑا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے۔ پھر کوئی شخص مایوس کیوں ہو۔ پھر آدمی نقصان پر فریاد و احتجاج کیوں کرے ۔ کیوں نہ وہ نئے امکان کو استعمال کرے جو اس کی شام کو دوبارہ ایک روشن صبح میں تبدیل کر دینے والا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب ایک امکان کا سرا اس کے ہاتھ سے نکل جائے تو وہ کھوئی ہوئی چیز کا ماتم کرنے میں وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ نئے امکان کو دریافت کر کے اس کا استعمال شروع کر دے۔ عین ممکن ہے کہ اس تدبیر کے ذریعہ وہ پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی اپنے لیے حاصل کر لے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader