تجربہ کی زبان سے
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
تجربہ کی زبان سے ایک پاکستان مسلمان اپنے ہندوستانی عزیزوں سے ملنے کے لیے ہندوستان آتے رہتے ہیں۔ ان کا ہندوستان کا پتہ یہ ہے: آغا غیاث الرحمن انجم، جان سنز کارپٹ مینو فیکچررز، کمرشل اسٹریٹ، بنگلور۔ موصوف کا تفصیلی خط ہمیں موصول ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے تین واقعات درج کیے ہیں۔ ان کے خط کا ابتدائی حصہ خودانہیں کے اپنے الفاظ میں نقل کیا جاتا ہے۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ اپنے عزیزوں سے ملنے میں اکثر بنگلور آتا رہتا ہوں۔ اب کے بار انڈیا آیا تو الرسالہ کا شمارہ جنوری 1992 ء دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں ایک واقعہ افضل صاحب کا "خون کے بجائے پانی" کے عنوان سے پڑھا تو میرے ذہن میں انڈیا کے تعلق سے تین ذاتی واقعات آگئے۔ جو اختصار کے ساتھ سپر قلم کر رہا ہوں۔ ان واقعات سے میرا یہ یقین پختہ ہو گیا ہے کہ دل میں اگر تنگی اور نفرت کے بجائے دوسروں کے لیے محبت اور کشادگی ہو۔ رویے میں سختی کی بجائے نرمی اور زبان پر تلخی کے بجائے مٹھاس ہو تو پوری دنیا امن و آشتی سے مالا مال ہو سکتی ہے۔ پہلا واقعہ 1982 ء میں پیش آیا۔ میں، میری بیوی، بیٹی اور نو عمر بیٹا بذریعہ ٹرین دہلی سے بنگلور جا رہے تھے جس بوگی میں ہمیں جگہ ملی وہ چھوٹی سی تھی، اور اس میں تقریباً پندرہ مسافر اور تھے جن کا تعلق بھارت اور ہندومت کے ساتھ تھا۔ ان میں زیادہ تر نوجوان تھے جو بنگلور کے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، اور چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ہماری روایتی سادگی اور بے تکلفی کے سبب یہ نوجوان بہت جلد ہم سے گھل مل گئے۔ میرے داڑھی اور میرے پر یوار کی نمازوں کی پابندی دیکھ کر ہمارے بارے میں ان کا تاثر یہ تھا کہ ہم مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا ادھر ادھر کی باتوں کے علاوہ دنیا کے موسم و حالات اور علاقائی سیاست سے چلتے چلتے مذہبی معاملات پر بھی ہونے لگی۔ ان میں ایک ہندو نوجوان بات کرنے میں پیش پیش تھا۔ اس کی گفتگو سے معلوم ہو رہا تھا کہ ذہین نوجوان ہے اور اپنے مذہب کے بارے میں وسیع معلومات رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader